بورس جانسن کی کامیابی پر ہزاروں افراد کا لندن میں احتجاج، بریگزٹ پر کام کا اعلان

لندن: برطانوی انتخابات میں بورس جانسن کی ایک بار پھر کام یابی پر لندن میں ہزاروں افراد سراپا احتجاج بن گئے۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی انتخابات میں بورس جانسن کی کام یابی کے بعد ہزاروں افراد نے لندن میں احتجاج کیا اور بورس جانسن کے خلاف نعرے لگائے، انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے تاریخی فتح حاصل کی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں متعدد افراد زخمی ہوئے، ادھر اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے علیحدگی کی تحریک زور پکڑنے لگی ہے.
بورس جانسن کی جماعت نے برطانیہ میں پانچ سال کے عرصے میں تیسرے عام انتخابات میں 365 نشستیں جیتیں، کام یابی کے بعد وزیر اعظم بورس جانسن نے ملکہ الزبتھ سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کی اجازت لی۔
وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ ملنے کے بعد بریگزٹ پر تیزی سے کام کریں گے، اب بریگزٹ کی بحث اپنے خاتمے تک پہنچ جائے گی۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے پارلیمانی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے واضح اکثریت کے ساتھ میدان مار لیا ہے، جب کہ اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے نتائج کو پارٹی کے لیے مایوس کن قرار دیا۔
کنزرویٹو پارٹی 650 میں سے 365 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی جب کہ لیبر پارٹی 203 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ ایس این پی 48، ایس ایف 7، ایل ڈی 11، ڈی یو پی 8، پی سی کو 4، ایس ڈی ایل پی کو 2 جب کہ گرین پارٹی اور الائنس پارٹی کو ایک ایک نشست ملی ہے