اسکاٹ لینڈ، ایس این پی کی لینڈ سلائیڈ وکٹری، 59 میں سے 48 نشستیں جیت لیں

گلاسگو(طاہر انعام شیخ)اسکاٹش نیشنل پارٹی نے سکاٹ لینڈ میں ڈالے گئے کل ووٹوں میں سے 45فیصد حاصل کرکے 59نشستوں میں سے 48پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ 6ٹوری،4لب ڈیم اور صرف ایک سیٹ لیبرپارٹی کو ملی۔ اس لینڈ سلائیڈ وکٹری کے بعد سکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ سکاٹش عوام نے واضح طور پر آزادی کیلئے دوسرے ریفرنڈم کے مطالبے کی حمایت کردی ۔ تفصیلات کے مطابق 2019 کے حالیہ جنرل الیکشن میں سکاٹ لینڈ سے سکاٹش نیشنل پارٹی نے دوسری بار تاریخی کامیابی حاصل کی ہے اور دارالعوام کی 59 میں سے 48 نشستیں حاصل کرلی ہیں جوکہ2017 کے الیکشن کے مقابلے میں 13 زیادہ ہیں۔ اس سے قبل کے جنرل الیکشن 2015میں سکاٹش نیشنل پارٹی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور شاندار کامیابی حاصل کی تھی،جب اس نے 59میں سے 56 نشستیں جیتیں جبکہ لیبر پارٹی ، لبرل ڈیموکریٹ اور کنزرویٹو کو صرف ایک ایک نشست ملی تھی، یہ دونوں تاریخی کامیابیاں پارٹی کی موجودہ سربراہ اور حکومت کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کی قیادت میں ہی ہیں۔ دیگر پارٹیوں میں اس بار کنزرویٹو کو 6، لبرل ڈیموریٹ کو 4 اور لیبرپارٹی نے صرف ایک سیٹ جیتی ہے اور یوں چند سال قبل سکاٹ لینڈ جو لیبر کا قلعہ کہلایا جاتا تھا،وہاں اس کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔ سکاٹ نیشنل پارٹی نے کل ڈالے گئے ووٹوں کا 45 فیصد حاصل کیا، جو کہ گذشتہ الیکشن کے مقابلے میں 8فیصد زیادہ ہے۔ سکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولا سٹرجن نے حالیہ الیکشن کو آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کے مطالبے کے سلسلے میں مینڈیٹ قرار دیا اور کہا ہے کہ عوام نے واضح طور پر آزادی کے لیے دوسرے ریفرنڈم کے مطالبے کی حمایت کردی ہے۔ پہلا ریفرنڈم 2014 میں ہوا تھا۔ جس کی قیادت پارٹی اور حکومت کے سابق سربراہ الیکس سالمنڈ کررہے تھے، اس ریفرنڈم میں آزادی کے مطالبے کو 45 کے مقابلے میں 55فیصد سے شکست ہوئی تھی۔ نکولا سٹرجن آزادی کا دوسرا ریفرنڈم 2020 میں چاہتی ہیں لیکن کنزرویٹو حکومت کے سربراہ آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کی اجازت دینے کے مطالبے کو مسترد کرچکے ہیں۔ نکولا سٹرجن نے کہا کہ موجودہ الیکشن کے نتائج ان کی توقعات سے زیادہ شاندار ہیں۔ واضح رہے کہ لبرل ڈیموکریٹ کی سربراہ جوسونسن بھی ایسٹ ڈن برٹن شائر کے حلقے سے سکاٹش نیشنل پارٹی کے امیدوارایمی کلاگان سے شکست کھا گئیں۔