ٹوریز کی بڑی فتح کے بعد برٹش مسلم، اقلیتیں اپنےمستقبل کیلئے خوفزدہ

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) برٹش مسلمانوں کے ایک گروپ اور نسلی ثقافت پر ایک بڑی آواز نے بورس جانسن کی کنزرویٹیو پارٹی کو عام انتخابات میں بھاری ووٹوں سے فتح ملنےکے بعد برطانیہ میں مسلمانوں اور نسلی اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں خوف کا اظہار کیا ہے۔ انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے بعد مسلم کونسل آف برٹین (ایم سی بی) نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ وہ برطانوی مسلمانوں کے اس ملک میں مقام پر یقین دہانی کرائیں۔ کابینہ کی سابق وزیر اور ٹوری پارٹی کی چیئرپرسن سعیدہ وارثی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو ’’برٹش مسلمانوں سے اپنے تعلقات کی بحالی کیلئے اقدامات‘‘ کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اس امر کا اظہار ٹوری پارٹی میں بڑے پیمانے پرنسل پرستی اور اسلاموفوبیا کی موجودگی اورپارٹی میں اینٹی امیگریشن اور اینٹی مسلم نظریات کے حوالے سے کیا۔ لیبر رہنما جریمی کوربن کے حق میں بولنے والے گرائم ریپر سٹارمزی نے کہا ہے کہ عام انتخابات 2019 کے نتائج میں بورس جانسن کی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہونے کے بعد برطانیہ عظمیٰ میں اقلیتوں کا مستقبل پریشان کن نظر آرہا ہے۔ مسلم کونسل آف برٹین کے سیکرٹری جنرل ہارون خان نے کہا کہ مسٹر جانسن اکثریت کی کمانڈ کریں گے مگر ملک بھر کی مسلم کمیونٹیز میں خوف کا احساس واضح ہے۔ ہم اپنی سیاست اور اپنی حکمران پارٹی میں تعصب کے بارے میں طویل عرصہ سے تشویش کے ساتھ انتخابی کمپین کے پیریڈ میں داخل ہوئے تھے۔ اب ہمیں پریشانی ہے کہ اسلاموفوبیا حکومت کیلئے ایک ’’ تندور کی طرح سے‘‘ تیار ہے۔ مسٹر جانسن کو بڑی طاقت ملی ہے اور ہماری دعا ہے کہ یہ طاقت تمام برطانویوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے استعمال کی جائے۔ ہارون خان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم یہ اصرار کرتے ہیں کہ وہ ’’ون نیشن ٹوری‘‘ ہیں۔ ہم کھلے دل سے یہ توقع کرتے ہیں کہ یہی بات ہے اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مرکز سے قیادت کریں اور تمام کمیونٹیز کو اپنے ساتھ شامل کریں۔ ایک ٹویٹ میں سیدہ وارثی نے مزید کہا کہ ٹوری رابنسن اور کیٹی ہوپکن کے ریمارکس اور ساتھیوں کی جانب سے ری ٹویٹ کیا جانا دونوں ہی پریشان کن ہیں۔ اسلامو فوبیا کے بارے میں آزادانہ انکوائری لازمی طور پر پہلا قدم ہونا چاہئے۔ نسل پرستی کو ختم کرنے کی جدوجہد لازمی طور پر تیز کی جانی چاہئے۔ 26 سالہ سٹارمزی، جس نے پہلے اپنے فالوورز پر زور دیا تھا کہ وہ لیبر کو ووٹ دیں، ایگزٹ پول جاری ہونے کے فوری بعد ٹیوٹر پر ایک برٹش صحافی مہدی حسن کا ایک پیغام ری ٹویٹ کیا۔ یہ پیغام 1.3 ملین فالوورز سے شیئر کیا گیا تھا، جس میں کنزرویٹیو رہنما بورس جانسن کا حوالہ دیا گیا تھا کہ ’’برطانیہ میں اقلیتوں بالخصوص برطانوی مسلمانوں کیلئے یہ ایک تاریک دن ہے، جنہوں نے ایک ایسے شخص کی بھاری اکثریت سے فتح دیکھی ہے، جو اسلام کو ’’مسئلہ‘‘کہتا ہے، حجاب پہنے ہوئے مسلم خواتین کی ’’ تضحیک کرتا ‘‘ اور اپنی پارٹی میں بڑے پیمانے پر مسلم مخالف نفرتوں سے چشم پوشی اختیار کرتا ہے