اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب تحریر:نعیم نقشبندی ۔۔لندن

اوورسیز پاکستانیز کمیشن حکومت پنجاب کے قیام اور اغراض و مقاصد کے حوالے سے آگاہی کیلئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ باقاعدہ قانون سازی کے زریعے اوورسیز پاکستانیز کمیشن حکومت پنجاب ادارہ کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ اوورسیز پاکستانیز کوسستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کےساتھ تارکین وطن کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب آرڈیننس 24 اکتوبر 2014 کو پنجاب اسمبلی سے منظور ہوا۔8 نومبر کو گورنر پنجاب نے منظوری دی،10نومبر کو پنجاب گزٹ صفحات (1679-82) میں شائع ہوا۔ آرڈیننس کے آئین کی روشنی میں وزیر اعلیٰ پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے چئیرمین اور وسیم اختر چوہدری او پی سی پنجاب کے وائس چئیرمین ہیں۔کمشنر ادارے کے سیکرٹری اور تین ممبران صوبائی اسمبلی ، دو خواتین ممبران ،چیف سیکرٹری پنجاب، سینئرممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ، سیکرٹری ہوم ڈپارٹمنٹ، پروونشل پولیس آفیسر، چیئرمین پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ، چیئرمین پنجاب بورڈ آف انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سمیت دیگر اداروں کے افسران بالا کمیٹی کےممبران میں شامل ہیں۔ آرڈیننس کے مطابق اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کو اختیار حاصل ہے کہ دنیا بھر کے مختلف
ممالک میں اوورسیز کمیونٹی کے مسائل وشکایات کو اجاگر و حل کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے ایڈوائزری کونسلز تشکیل دے۔ گذشتہ چھ دہائیوں سے تارکین وطن کی بڑی تعداد برطانیہ ، یورپ ، مڈل ایسٹ سمیت دیگر ممالک میں آباد ہے۔ جہاں ان کی تیسری اورچوتھی نسل بیرون ممالک میں پروان چڑھ رہی ہے وہاں اوورسیز کمیونٹی کو لینڈ مافیا، ریونیو، پولیس، جعلی دستاویزات،بینکنگ،سوشل ویلفیئر سیکٹر، پی آئی اے،ایف آئی اے،ہاؤسنگ سوسائٹیز سمیت دیگر بے شمار محکموں سے متعلقہ مسائل و مشکلات کاسامنا ہے۔ ایسے حالات میں اوورسیز کمیونٹی کی نئی نسل کا دھرتی ماں کی بجائے مڈل ایسٹ اور یورپین ممالک کی طرف رخ کرنا، ہالیڈیز منانا اور سرمایہ کاری کرنا ایک لمحۂ فکریہ تھا۔ایسے حالات میں 2014 میں باقاعدہ قانون سازی کے زریعے اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب میں پولیس، ریونیو اور دیگر اداروں کےڈی ایم جی گروپ کے اعلی افسران پر مشتمل صوبائی و ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کا قیام صوبہ پنجاب کے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ایک تحفہ سے کم نہ تھا۔ضلعی او پی سی چیئرمین صاحبان کی صدارت میں منعقدہ کمیٹیوں کی ماہانہ دو میٹنگز میں ڈپٹی کمشنرز صاحبان، پولیس کے سی پی اوز اورڈی پی اوز اور ریونیو کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ اٹارنیز لیول کے افسران کی شرکت اور معاونت سے تمام ڈسٹرکٹ کمیٹیاں متحرک و فعال کردار ادا کرتے ہوئے تارکین وطن کو ریلیف فراہم کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ اسی تسلسل میں اوورسیز پاکستانیز تک آسان رسائی حاصل کرنے ، دنیا بھر کے مختلف ممالک میں قیام پذیر تارکین وطن کے مسائل کو اجاگر کرنے،حل ممکن بنا نے، ریلیف فراہم کرنے کیلئے ایڈوائزری کونسلز کا قیام ناگزیر تھا اسی اثناء میں اوورسیز آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی اوراوورسیز ممالک میں ایڈوائزری کونسلز کے قیام کا باقاعدہ آغاز برطانیہ سے کیا گیا۔ اوورسیز آرگنائزنگ کمیٹی کےکنوینر مخدوم طارق محمودالحسن نے برطانیہ بھر کے تمام بڑے شہروں کے دورے کر کے مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ،کونسلرز و میئر صاحبان ، پی ٹی آئی قیادت ، ترجمان وزیر اعظم پاکستان برائے بزنس اینڈ انوسٹمنٹ صاحبزادہ عامر جہانگیر، ممتازبرطانوی کاروباری شخصیت انیل مسرت،تحریک انصاف برطانیہ کے نو منتخب صدر شرجیل ملک ، سیاسی و سماجی تنظیموں کی سرکردہ قیادت ، پروفیشنلز تنظیموں کے عہدیداران اور ترجمان او پی سی کی باہمی مشاورت سے ایڈوائزری کونسل کی تشکیل کیلئے تجاویز وسفارشات مرتب کر کے وائس چئیرمین او پی سی وسیم اختر چوہدری کو ارسال کیں۔ وائس چیئرمین وسیم اختر چوہدری نے نظر ثانی اور شارٹ لسٹ ممبران کے بعد وزیر اعلی پنجاب کی منظوری سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کئے گئے ۔ برطانیہ کے تمام بڑے شہروں اور زونز سے ایڈوائزری کونسل میں پروفیشنلز ، سیاسی و سماجی حلقوں سمیت دیگر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ ، باکردار اور کمیونٹی مسائل کا ادراک رکھنے والے خواتین وحضرات کو نمائندگی دی گئی۔ حکومتیں اور شخصیات اپنی مدت اقتدار و ملازمت کی تکمیل کے بعد عروج و زوال سے دوچار تو ہو سکتے ہیں مگر ادارے صدا قائم ودائم رہتے ہیں اور اورسیز پاکستانیز کمیشن حکومت پنجاب کا ایک ادارہ ہے جو اوورسیز کمیونٹی کیلئے اپنی خدمات آئینی حیثیت میں سرانجام دیتا رہے گا۔ وائس چیئرمین وسیم اختر چوہدری کی رہنمائی اور ان تھک محنت و کاوشوں سے گزشتہ ایک سال میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے پورٹل پر درج ہونے والی شکایات اور کیسز کے حل کی شرح تقریباً پچاس فیصد سے زیادہ رہی چونکہ ان کی تعیناتی سے پہلے ہزاروں کیسز پینڈنگ تھے اور اب بیک لاگ سمیت او پی سی پورٹل پر نئے اندراج شدہ کیسز بھی نمٹنائے جارہے ہیں۔او پی سی کے قیام کے بعد اب تک کمپلین پورٹل پر تقریباً بیس ہزار سے زائد تارکین وطن کی شکایات موصول ہوئیں۔ اسی طرح ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر تارکین وطن سے فراڈ سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے قانون سازی کا عمل جاری ہے۔ چیف جسٹس آف پنجاب ہائیکورٹ کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ تمام ضلعی عدالتیں چھ ماہ کی مدت میں اوورسیز کمیونٹی کےکیسز کونمٹاتے ہوئے فیصلے سنائیں۔دنیا بھر کے تمام ممالک میں صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو وائس چیئرمین او پی سی وسیم اختر چوہدری کی سربراہی میں اس اوورسیز کمیشن یعنی سرکاری ادارہ سے بے پناہ قانونی معاونت اور ریلیف مل رہا ہے جسے اوورسیز کمیونٹی لائق تحسین قرار دیتے ہوئے سراہتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں شکایات اور کیسز کے حل کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے ۔واضح رہے کہ اوورسیز کمیونٹی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وفاق ، آزاد کشمیر اور دوسرے صوبوں کو وزارت اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن، پرائم منسٹر اوورسیز پورٹل سمیت اوورسیز سیل وفاقی محتسب بھی ریلیف فراہم کرنے میں مصروف عمل ہیں اور تارکین وطن اداروں کی خدمات اور کاوشوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔