جرمن ویزہ: طلبہ کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے، رپورٹ

پاکستان کے طالب علم ہوں، بھارت، مراکش یا کیمرون کے، انہیں جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ویزہ اپوائنٹمنٹ کے لیے ہی مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی طلبہ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں لیکن انہیں ویزے کے حصول کے لیے متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جرمن اخبار نوئے اُوسنابروکر سائٹُنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار اٹھارہ کے دوران چوبیس جرمن سفارت خانوں میں طالب علموں کو ویزہ اپوائنٹ منٹ کے لیے ہی چار چار ہفتے انتظار کرنا پڑتا ہے۔
یہ اعداد وشمار جرمن وزارت تعلیم و تحقیق نے جاری کیے ہیں اور اس سے قبل جرمنی کی گرین پارٹی نے اس حوالے سے پارلیمان میں سوالات اٹھائے تھے۔ اس وزارت کے مطابق کئی کیسز میں تو طالب علموں کو ویزہ اپوائنٹ منٹ کے لیے ایک سال سے بھی زیادہ وقت انتظار کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ انتظار بھارت، مراکش اور کیمرون کے طلبہ کو کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق ان افسر شاہی مسائل میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ایرانی دارالحکومت تہران کے طالب علموں کو ویزہ اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے ایک سال سے زائد انتظار کرنا پڑا۔ جن جرمن سفارت خانوں نے طلبہ کو اس حوالے سے طویل انتظار نہیں کروایا، ان کی تعداد صرف تین ہے اور یہ مصر، ازبکستان اور تاجکستان میں واقع ہیں۔ باقی تمام ممالک میں طلبہ کو تاخیر سے ویزہ اپوائنٹمنٹ دینا ایک معمول بن چکا ہے۔

بین الاقوامی صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھانا
جرمنی کی گرین پارٹی کا اس حوالے سے افسرشاہی رکاوٹوں پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے اس رویے سے سائنسدان اور محقق دوسرے ممالک جا رہے ہیں۔ گرین پارٹی کے ترجمان کائی گیہرنگ کا ریسرچ اور تعلیم کی پالیسی کے حوالے سے کہنا تھا، ”طلبہ کو کئی کئی ماہ انتظار کروانا ناقابل قبول ہے۔ یہ بین الاقوامی ٹیلنٹ کو مایوس کرنے اور ان کی حوصلہ شِکنی کے مترادف ہے۔‘‘
جاری کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت جرمن یونیورسٹیوں میں تقریبا چار لاکھ غیرملکی طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سن دو ہزار سترہ میں سب سے زیادہ چینی طلبہ جرمنی تعلیم حاصل کرنے آئے تھے۔ دوسرے نمبر پر بھارت اور تیسرے پر امریکا کا نمبر آتا ہے۔ شام سے آنے والے طلبہ کا شمار بھی سرفہرست ممالک کے طلبہ میں ہوتا ہے۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی حکومت جرمنی کو بین الاقوامی ماہرین اور ہنرمندوں کے لیے مزید پرکشش بنانا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے جرمنی میں ایک نیا قانون بھی منظور کیا گیا ہے، جو یکم مارچ سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس نئے قانون سے غیرملکی ہنر مند افراد کو جرمنی آنے میں آسانی ہو گی۔