یوکرین کا مسافر طیارہ غلطی سے حملے کا نشانہ بنا: ایران کا اعتراف

تہران: (دوست نیوز) ایران نے یوکرین کے مسافر طیارے حادثے کو انسانی غلطی قرار دے دیا۔ ایران نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کا مسافر طیارہ غلطی سے حملے کا نشانہ بنا۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کو ملٹری کی جانب سے مار گرانا انسانی غلطی تھی، طیارہ حساس ملٹری اسٹرائیک کے پاس سے گزرتے ہوئے نشانہ بنا۔
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کی تحقیقات کے مطابق واقعہ انسانی غلطی اور طاقت کے زعم میں مبتلا امریکی مہم جوئی کے دوران پیش آیا، واقعے پر افسوس اور متاثرہ خاندانوں سے معذرت چاہتے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے طیارہ حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ انسانی غلطی کی وجہ سے میزائل فائر ہوا جو یوکرائنی طیارے کے حادثے کا سبب بنا،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران اس تباہ کن غلطی پر انتہائی پشیمان ہے، انویسٹی گیٹرز ناقابل معافی غلطی کے اسباب کے جانچ کی تحقیقات کر رہے ہیں، میری دعائیں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ایرانی کمانڈر امیر علی حاجی نے کہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب حادثے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، ایئر ڈیفنس آپریٹر نے طیارے کو کروز میزائل سمجھا، حادثے کا پتہ چلا تو خواہش ہوئی کہ مرجاؤں، ایسا حادثہ دیکھنے سے پہلے مرنے کو ترجیح دیتا۔
ادھر یوکرین حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے یوکرین کے ماہرین کو بلیک باکس تک رسائی دے دی ہے، یوکرین کے 50 ماہرین کو ایران بھیج دیا گیا ہے۔امریکا، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ طیارے کو ایران نے میزائل سے نشانہ بنایا تاہم ایران نے کئی مرتبہ طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے بیانات کی تردید کی تھی۔خیال رہے ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ختم ہونے کے کچھ گھنٹے بعد یوکرین کا طیارہ ایران کے امام خمینی ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس میں 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے، مسافر طیارہ تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیف جا رہا تھا، طیارے میں 82 ایرانی اور 63 کینیڈین شہری سوار تھے۔