ملالہ یوسفزئی پربنائی گئی بھارتی فلم’’گل مکئی‘‘ کاآفیشل ٹریلرجاری

ملالہ یوسفزئی کی زندگی پر بننے والی بالی ووڈ فلم گل مکئی اگلے ماہ 31 جنوری کو ریلیز کی جائے گی ۔فلم کا آغاز 2017 میں کیا گیا تھا جس کا آفیشل ٹریلر جاری کردیا گیا۔ فلم کی عکسبندی مقبوضہ کشمیر میں کی گئی ہے۔
بھارت کے نوجوان ہدایتکار امجد خان کی ہدایتکاری اور آنند کمار کی پروڈیوس کردہ ملالہ یوسف کی بائیو پک ’’گل مکئی‘‘ میں بھارتی چائلڈ اسٹار ریم شیخ ملالہ کے روپ میں مرکزی کردار اداکریں گی۔
ریم شیخ نے 2009 میں چائلڈ آرٹسٹ کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور مشہور انڈین ڈرامہ’’ یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے‘‘ ان کی پہچان کا سبب بنا ۔
ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی کے روپ میں اتل کلکرنی نظر آئیں گے جبکہ اداکارہ دیویا دتا والدہ کا کردار نبھا رہی ہیں۔ دیگر کاسٹ میں مکیش رشی، ابھیمینو سنگھ اور اعجازخان نمایاں ہیں۔
فلم میں مولانا فضل اللہ، بیت اللہ محسود اور صوفی محمد سمیت متعدد طالبان رہنماؤں کو بھی دکھایا گیا ہے جو سوات میں طالبان کے زور کے وقت خبروں میں رہے۔
دو منٹ 37 سیکنڈ کے اس ٹریلر کا آغاز ملالہ (ریم شیخ ) کی اس بات سے ہوتا ہے ’’ ہمارے پشتو قبیلے میں لڑکیوں کے پیدا ہونے پہر کبھی کوئی جشن نہیں منایا جاتا، وہیں میرے دنیا میں آتے ہی مجھے میرے اپنوں سے بہت سارا پیار ملا‘‘۔
فلم کے آغاز ملالہ کی تعلیم کیلئے جدو جہد اور افغانستان و پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی جنگ کو دکھایا گیا ہے۔
ٹریلرمیں ملالہ کو اپنے نام کی تشریح کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے کہ افغان خاتون سے متاثر ہو کر دادا نے میرا نام ملالہ رکھ دیا۔ ملالئی نے افغانستان پر برطانوی حملے کے وقت ملک کے فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے حجاب اتار کر ان کی حوصلہ افزائی کے لیے لکھنا شروع کیاتھا۔
ملالہ ٹریلر میں مزید کہتی ہے کہ مجھے علم نہیں تھا کہ میوند کی ملالئی کی طرح مجھے بھی حق کی لڑائی لڑنی پڑے گی۔
ڈائریکٹرامجد خان کے مطابق ملالہ یوسف زئی کی زندگی اور لڑکیوں کی تعلیم کیلئے ان کی جدوجہد پر بننے والی فلم ’’گل مکئی‘‘ 31 جنوری 2020 کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
ملالہ پربنائی گئی فلم کے ٹریلر میں کئی جھول بھی ہیں لیکن اس فلم کا ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ بھارت نے بالواسطی یا بلاواسطہ انتہا پسندی کیخلاف پاکستانی فوج اور عوام کی قربانیوں کا اعتراف تو کیا۔
پس منظر
ملالہ یوسفزئی 12 جولائی سال 1997 کو پاکستان کی وادی سوات میں پیدا ہوئی تھیں۔ ملالہ بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھا کرتی تھیں، جہاں ان کے آبائی علاقے میں کالعدم طالبان کا راج تھا، انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے دنیا تک اپنی آواز پہنچائی کہ وہ کیسے اس خوف کے سائے میں زندگی گزر رہی ہیں۔
ملالہ یوسفزئی کو اس وقت عالمی پہچان ملی جب 2012 میں سوات میں اسکول سے واپس آتے ہوئے ملالہ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ ملالہ کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد میں ملالہ کو بہترعلاج معالجے کیلئے برطانیہ منتقل کردیا گیا تھا جہاں کافی عرصے ان کا علاج جاری رہا۔ صحت یاب ہونے کے بعد ملالہ نے برطانیہ میں ہی اپنے تعلیمی سلسلے کو دوبارہ استوار کیا،جہاں وہ اب بھی زیر تعلیم ہیں۔
ملالہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسفہ، سیاست، اور معاشیات کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ یہی مضامین آکسفورڈ سے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اورچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بھی پڑھے تھے۔
ملالہ 2014 میں بچوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے پربھارت کے سماجی کارکن کیلاش ستھیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام بھی حاصل کرچکی ہیں۔اس کے علاوہ انہیں ورلڈ چلڈرن پرائز ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے ملالہ کو اپنا سفیر برائے امن بھی مقرر کیا ہے۔خواتین کی تعلیم، حقوق نسواں اور انسانی حقوق کیلئے خدمات پرکئی عالمی اعزازات بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔
اس کے علاوہ ملالہ ’’آئی ایم ملالہ‘‘ کے نام سے اپنے حالات زندگی پر ایک کتاب بھی لکھ چکی ہیں۔