سنگین سائبر حملے کا سامنا ہے: آسٹریا

آسٹریا کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے سنگین سائبر حملے کا سامنا ہے۔ہفتے کو رات گئے ایک بیان میں آسٹریا کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ سائبر حملہ بیرون ملک سے ہوسکتا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں حملے کی نوعیت اور اس سے متعلق دیگر معلومات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا. نہ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حملے میں صرف وزارت خارجہ کو ہی ہدف بنایا گیا ہے اور کیا یہ کوئی ملک دشمن کارروائی ہے۔
بیان کے مطابق فوری طور پر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں جب کہ اس سلسلے میں ایک رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔حملہ اس وقت میں ہوا ہے جب ملک میں اہم سیاسی پیش رفت ہونے جا رہی ہے اور قدامت پسندوں کے ساتھ غیر معمولی اتحاد قائم کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ماضی میں ایسے سائبر حملے دیگر یورپی ممالک میں بھی باقاعدہ ہدف لے کر کیے جاتے رہے ہیں۔ 2018 میں جرمنی کے سرکاری آئی ٹی نیٹ ورک پر بھی سائبر حملہ ہوچکا ہے۔
یورپی ممالک کے اسپتالوں اور بینکوں کے نظام کو بھی سائبر حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا چکا ہے جب کہ مختلف کمپنیز کے راز اور فنڈز بھی ان حملوں کے نتیجے میں چوری ہو چکے ہیں۔