برطانوی پولیس اہلکار کا مبینہ قاتل 15 سال بعد پاکستان سے گرفتار

اسلام آباد / لندن: برطانوی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ویسٹ یارکشائر پولیس کے افسر شیرن بیشنووسکی کو قتل کرنے والے پاکستانی کو پاکستان میں ہی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ویسٹ یارکشائر پولیس سے تعلق رکھنے والی افسر شیرن بشنوسکی کو 18 نومبر 2005 میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا اور مبینہ طور پر قتل میں ملوث پاکستانی شہری پیراں دتہ کو پاکستانی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 38 سالہ پولیس افسر شیرن بشنوسکی کو پولیس میں بھرتی ہوئے صرف 9 ماہ ہی ہوئے تھے کہ بریڈ فورڈ میں ایک ڈکیتی کے دوران انہیں سینے پر گولی مار دی گئی، اسی روز ان کی چھوٹی بیٹی لیڈیا کی چوتھی سالگرہ بھی تھی، جب کہ واقعے میں ان کی ساتھی پولیس افسر ٹریزا ملبرن کو بھی گولی لگی تھی تاہم خوش قسمتی سے وہ بچ گئی تھیں۔
یارکشائر پولیس کا کہنا ہے کہ ڈکیتی کرنے والے اور قتل کے الزام میں گرفتار 5 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ گروہ کی سربراہی کرنے والا پاکستانی نژاد پیراں دتہ خان نامی شخص مفرور ہوگیا جس کی گرفتاری کے لئے 20 ہزار پاؤنڈ کا انعام بھی رکھا گیا تھا اور پاکستان حکام کے ساتھ رابطے میں تھے۔
ڈپٹی سپرٹنڈنٹ مارک سوفٹ کا کہنا ہے 71 سالہ پیراں دتہ خان کو منگل کے روز پاکستان میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور اگلے ہی روز اسے اسلام آباد کی ایک عدالت میں پیش کردیا گیا جس پر ہم پاکستان میں نیشنل کرائم ایجنسی اور ان کے معاونین کے شکر گزار ہیں جن کی وجہ سے یہ گرفتاری ممکن ہوئی، یہ طویل عرصے سے جاری تحقیقات میں اہم پیش رفت ہے، ہم پیراں دتہ خان کی برطانیہ حوالگی کے لیے پاکستان میں اپنے معاونین سے رابطے میں ہیں تاکہ قتل میں ملوث ملزم کو برطانیہ لاکر عدالت میں پیش کیا جا سکے۔