صلح حدیبیہ سے منسوب قدیم اور تاریخی کنوئیں پر تنازعہ

ریاض: تاریخ اسلامی کی عظیم الشان ’صلح حدیبیہ‘ حدیبیہ کے مقام پر ہوئی اور اسی نسبت سے اس کا نام رکھا گیا، تاہم یہاں موجود ایک قدیم و تاریخی اور زائرین کے لیے مقدس کنوئیں کو نجی کمپنی نے بغیر کسی اجازت کے اپنے تصرف میں لے لیا ہے۔سعودی ویب سائٹ کے مطابق اسلامی تاریخ کے ماہر ڈاکٹر سمیر برقہ کا کہنا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ اس کمپنی کے خلاف کارروائی کرے جس نے بغیر اجازت حدیبیہ کنوئیں کے گرد دیوار بنا کر اسے اپنے تصرف میں لے لیا ہے۔
ڈاکٹر سیمر کا کہنا ہے کہ علاقے میں تعمیراتی کام کرنے والی ایک نجی کمپنی نے وہاں اپنا کیمپ آفس بنایا ہوا ہے جہاں یہ کنواں واقع ہے۔ کمپنی نے کیمپ اور اسٹور کے گرد جو دیوار بنائی ہے اس کے اندر یہ کنواں بھی شامل کر لیا ہے۔خیال رہے کہ ’حدیبیہ‘ کا مقام جدہ اور مکہ مکرمہ شاہراہ پر شمیسی چیک پوسٹ سے 20 کلو میٹر مسافت پر واقع ہے، یہاں تاریخ اسلامی کی عظیم الشان ’صلح حدیبیہ‘ ہوئی تھی۔
اس مقام پر ایک قدیم تاریخی کنواں آج بھی موجود ہے جہاں دنیا بھر سے آنے والے معتمرین، عازمین حج اور زائرین جاتے ہیں اور یادگاری تصاویر بھی بناتے ہیں۔تاہم اب مذکورہ کمپنی نے کنوئیں کے گرد دیوار بنا کر اسے لوگوں کی نظروں سے دور کرديا۔ تعمیراتی کمپنی نے بغیر کسی اطلاع کے کنوئیں کے گرد دیوار بنا دی ہے جس کے بعد کنوئیں تک رسائی ممکن نہیں۔
ڈاکٹر سمیر کا کہنا ہے کہ اسلامی تاریخ میں اس کنوئیں کی بڑی اہمیت ہے جبکہ مملکت کے ویژن 2030 کے مطابق سعودی عرب میں سیاحت کے فروغ کے لیے بے تحاشہ کام کیا جا رہا ہے، ایسے میں مذکورہ کنوئیں کو اس طرح لوگوں کی نظروں سے دور کر کے اس کے گرد دیوار تعمیر کرنا کسی طور درست اقدام نہیں۔