غارِحراء اور غار ثور تک زائرین کی رسائی کے لیے کیبل کار کی تجویز

مکہ معظمہ کے قریب واقع جبل النور یا غار حرا اور آںحضرت صلی اللہ علیہ کی ھجرت کی وجہ سے آفاقی شہرت حاصل کرنے والی غار ثور اسلامی تاریخ میں غیرمعمولی اہمیت کےحامل مقامات ہیں۔ حج اور عمرہ کی ادائی کے لیے مملکت کا قصد کرنے والے فرزندان توحید ان مقامات کی زیارت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مسجد حرام سے بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے ان دونوں غاروں تک پہنچنے کے لیے زائرین کو پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
سعودی دانشور اور سعودی عرب کی ام القریٰ یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ اور تہذیب کے پروفیسر اور مکہ معظمہ میں شاہ عبدالعزیز سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فواز الدھاس نے جبل النور اور جبل ثور تک زائرین کی رسائی آسان بنانے کے لیے راستے میں آنے والی تمام غیرضروری عمارتوں کو مسمار کرنے کے بعد وہاں پر کیبل کار اور برقی سیڑھیوں کی سہولت فراہم کرنے ی تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں غاریں اسلامی تاریخ میں غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کی بڑی تعداد ان مقامات کی زیارت کرتی ہے۔ اس لیے زائرین کو غار حرا اور غار ثور تک جلد رسائی فراہم کرنے کے لیے سروسز فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ ان مقامات پر زائرین کے قیام اور طعام کے لیے ہوٹل اور ریستوران بھی قائم کیے جائیں۔
ڈاکٹر الدھاس نے ‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’ سے گفتگو کے دوران کہا غار ثور وہ عظیم تاریخی مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی کے ہمراہ ھجرت مدینہ کے موقع پر کفار مکہ سے پناہ لی تھی۔ یہ غار مکہ معظمہ کے جنوب میں سطح سمندر سے 759 میٹر بلندی پرواقع ہے۔ غار ثور کے مشرق میں جبل اکحل واقع ہے۔ اس کے مشرق میں وادی المفجر اور مغرب میں بطحاء قریش واقع ہے۔ یہ غار جبال مکہ کو دوسرے پہاڑوں سے الگ کرتی ہے۔
رہی غار حراء تو وہ مسجد حرام سے 10 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ غار حراء کی طرف جانے کے لیے طائف کی طرف سے ایک طویل پیدل پکڈنڈی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اعلان نبوت سے کئی ماہ قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی میں عبادت کرتے اور اسی مقام پر حضرت جبریل علیہ السلام اللہ کی طرف سے اپنے آخری پیغمبر کے لیے وحی لے نازل ہوئے۔حجاج اور معتمرین ان دونوں غاروں تک پہنچنے کے لیے پیدل سفر طے کرتے ہیں مگر کیبل کار اور بری زینوں کی سہولت سے ان دونوں مقامات تک زائرین کی رسائی آسان بنائی جا سکتی ہے۔