17 لاکھ غیر ملکیوں کو آئیندہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے،حکمران سوشلسٹ پارٹی کی تجویز

بارسلونا(دوست نیوز)سوشلسٹ پارٹی نے تجویز دی ہے کہ قانون سازی کے ذریعے 17 لاکھ غیر ملکیوں کو آئیندہ آنے وال بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہونا چاہئےجس میں چین،مراکش اور پاکستان جیسے ممالک کے شہریوں کو بھی یہ حق دیا جائے ان کے ذرائع کے مطابق 79ہزار پاکستانی بھی اس سے مستفید ہو سکیں گےاور کئی بلدیات میں گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں ۔اسپین میں مقیم غیر ملکیوں کے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق سے 15 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بلدیاتی انتخابات میں ووٹنگ کا موقع ملے گا اگر یہ ہو جاے تو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مراکش کے باشندے (740،000) ، چین (217،000) ، یوکرین (84،000) ، پاکستان (79،000) ، سینیگال (59،000) ، الجیریا (51،500) ، روس ( 46،000) ، ہندوستان (40،500) یا ارجنٹائن (34،500)۔ کہ افراد ووٹ کا استعمال کر سکیں گے۔
سوشلسٹوں کا ارادہ یہ ہے کہ قانون سازی کی تبدیلی 2023 کے بلدیاتی انتخابات کے لئے موثر ثابت ہوگی۔ اسپین میں 5.5 ملین تارکین وطن میں سے رومانیہ اور برطانویوں کی تعداد تقریبا 50٪ ہے۔ ووٹ ڈالنے کے لیے ان کا اندراج لازمی ہوگا اور اس سے قبل کم از کم پانچ سال تک سپین میں قانونی طور پر رہنا چاہئے۔اس اقدام کا مقصد ایک جامع اور جدید معاشرے کے ماڈل کو تقویت دینے کا ہے اور وہ لوگ جو ٹیکس ادا کرکے ملک میں اتنا حصہ دیتے ہیں ، سوشل سیکیورٹی میں شراکت کرتے ہیں۔ ان کہ اسپین کے مستقبل میں حصہ ڈالنے کہ حق کو تسلیم کیا جائے۔اس تجویز کے لیے ان ممالک کا حوالہ بھی دیا گیا جن میں مقامی اور علاقائی انتخابات میں تین سال رہائش کے حامل غیر ملکی ووٹ دے رہا ہیں۔ ڈنمارک ، سوئیڈن کہ علاوه ، فن لینڈ میں ، 1996 کے بعد سے ، دو سال رہائش کے حامل تارکین وطن ووٹ دے سکتے ہیں۔