پی ٹی آئی کے جنون سے اوورسیز پاکستانیوں کا امیج خراب نہ ہو..صاحبزادہ محمد سلیمان خان ماہر بین الاقوامی امور

پاکستان تحریک انصاف کوبڑی جماعت بنانے میں سب سے زیادہ کردار برطانیہ میں موجود اوورسیز پاکستانیوں نے ادا کیا جس کی واضح مثال دو ہزار گیا رہ سے قبل عمران خان کی طرف سے پاکستان سے زیادہ برطانیہ میں پی ٹی آئی اجلاس اور کارنر میٹنگ میں شرکت کرناہے ،،اس دوران پاکستان میں شوکت خانم لاہور ،نمل یونیورسٹی و دیگر اداروں کی تکمیل ہے ،،جن میں برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے اہم کردار ادا کیا ،، سب سے زیادہ وزیراعظم کے مشیر برائے سرمایہ کاری بھی برطانیہ سے ہی بنائے گئے ہیں
اوورسیز پاکستانی اپنے خاندان والوں اور ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں بیرون ممالک میں پاکستانی کمیونٹی کا امیج اچھا ہے ،، مل جل کر کام کرتے ہیں ،، سیاسی ، سماجی اور دینی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے حالات و واقعات سے جڑے رہتے ہیں ،،لیکن چند سیاسی واقعات پاکستانی کمیونٹی میں دوریا ں پیدا کر سکتے ہیں
ان واقعات کا تعلق پاکستان کی حکمران جماعت سے ہے ،، جس کے کارکنان جنون میں مبتلا ہیں ،، اتوار کے دن پاکستان تحریک انصاف برطانیہ کا اجلاس برمنگھم میں ہوا، جس میں پی ٹی آئی برطانیہ کے صدر شرجیل ملک مہمان خصوصی تھے ،،
اجلاس میں جنرل سیکریٹری برطانیہ رومی ملک کو بھی مدعو کیا گیا تھا ،،صد کے حامیوں نے جنرل سیکریٹر ی کےساتھیوں کو دروازے پر روک دیا ،،اس موقع پر پی ٹی آئی وومن ونگ کی ہیڈ زینب خان بھی خواتین عہدیداروں کے ساتھ باہر کھڑی رہیں ،،جنرل سیکریٹری برطانیہ رومی ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہال میں منعقدہ پارٹی اجلاس میں انھیں اور ان کے حامیوں شامل نہیں ہونے دیا گیا
،،جس کی وجہ سے وہ باہر منفی 3 سینٹی گریڈسخت سردی میں کھڑے ہیں ،، یہ پارٹی عہدیداروں کی تذلیل ہے جو صدر کے ایما ء پر کی گئی ہے ،،پی ٹی آئی خواتین ونگ کی عہدیداروں نے موقف اختیا ر کیا کہ انھیں اجلاس میں شامل ہونے سے روک دیا گیا ،، اور دھکے دئیے گئے ،،،،
پی ٹی آئی برطانیہ کے جنرل سیکریٹری رومی ملک اور ان کے ساتھیوں نے مزید کہا کہ دیار غیر میں پارٹی کیلئے دن رات محنت کی ،،پارٹی کے بر سراقتدار آنے کے بعد کچھ لوگ اپنا ذاتی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں،،انھوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ خواتین اراکین کو دھکے دیئے جانے کا نوٹس لیں جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی برطانیہ کے صدر شرجیل ملک کا کہناتھا
کہ یہ پارٹی کااندرونی معاملہ ہے ،، کچھ لوگ خود ہی اجلاس سے اٹھ کر گئے تھے،،،کسی کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کی گئی ،،اس قبل بھی پاکستان تحریک انصاف برطانیہ کے رہنماؤں اور کارکنوں میں بد نظمی دیکھی گئی تھی ،،جب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نجی دورے پر بر طانیہ گئے تھے تو مانچسٹر ایئرپورٹ پر پی ٹی آئی کے کارکن آپس میں گتھم گتھا ہوئے ،،،کارکنا ن دو گروپس میں ہو گئے ،،،اسپیکر قومی اسمبلی کو دھکے دئیے گئے ،،
اسد قیصر کو کو ئی دائیں طرف کھینچنے لگا تو کوئی بائیں جانب ،،دونوں گروپس کی کوشش تھی کہ اسپیکر صاحب ان کے ساتھ جائیں ،،،اس طوفان بد تمیزی میں اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصرنے دہائی دی ،،،چھوڑ دو مجھے ،،مَیں نے کسی کے ساتھ نہیں جانا،،یہ سنتے ہی پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان جذبات میں آ گئے ،،،اور عمران خان کے ٹائیگرز مانچسٹر ائیرپورٹ پر ہی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے
احتجاج کرنے والے کارکنان نے وزیراعظم عمران خان،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور تحریک انصاف کے خلاف نعرے بازی کی اس موقع پر پی ٹی آئی خواتین نے پی ٹی آئی مرد کار کنان پر جنسی ہراسگی کا الزام بھی لگا دیا ،،جس پر اس وقت کے صدر پاکستان تحریک انصاف برطانیہ ریاض حسین نے خواتین کی رکنیت معطل کر دی ،،یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ تحریک انصاف کے کارکنان آپس میں لڑیں ہوں،،،عمران خان کے پاکستان کے جلسوں میں کئی ایسے واقعات پیش آتے رہتے تھے،،،ان دو واقعات کے لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے پاکستانیوں نے بڑی محنت کرکے بیرون ملک اپنا مقام بنایا ہے ،،
کل تک پاکستان تحریک انصاف والے اپنے سیاسی حریفوں پر بیان بازی اور سوشل میڈیا پر جواب دیتے تھے،،پھر مخالفین کے گھروں پر حملے شروع ہوئے تب بھی مرکزی رہنماؤں نے پذیرائی کی
اب وہی کارکنان جنون میں آکر آپس میں دست و گریباں ہو رہے ہیں ،، تحریک انصاف کے کسی مرکزی رہنماء کو کوئی پروا نہیں ،، پاکستان تحریک انصاف میں بطور پارٹی ون مین شو ہے ،،عمران خان کی ذات کو ہی کُل سمجھا جاتا ہے ،،اس لیے ہر کو ئی چاہتا ہے ،،کہ تمام امور عمران خان ہی دیکھیں دوسرے درجے کی قیادت صرف اور صر ف اقتدار کے مزے لینے میں مصروف ہیں ،،یہ واقعات پاکستان تحریک انصاف کے باعث تشویش ہو نے چاہیں اور جتنی جلدی ہوسکے ان خرابیوں کا نوٹس لیا جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں اور ملک کا امیج خراب نہ ہو