دنیا بھر میں کشمیری کل بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری اتوا ر کوبھارت کایوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پرمنائیں گے۔ یوم سیاہ منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی ہے ۔ یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر آزادکشمیر اور دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے جن میں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم و تشدد او رفاشسٹ مودی حکومت کااصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔ سری نگرسمیت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یوم جمہوریہ کے پیش نظرسیکوٹی کے سخت کئے گئے ہیں کرکٹ سٹیڈیم سونہ واری جہاں نام نہاد یوم جمہوریہ کی تقریب ہونے والی ہے کو چاورں طرف سے سیل کردیاگیا ہے جبکہ جگہ جگہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا ہے کئی علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں اس دوران جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں سکیورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ ترال کے ہاری پاریگام اونتی پورہ پولیس اور فوج کے 3آر آر نے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کی ہے۔پولیس نے کہا ہے کہ اس علاقے میں جیش محمد کے دو سے تین حریت پسند نوجوان چھپے ہوئے ہیں۔تلاشی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میںایک فوجی اہلکارکے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔اطلاع ہے کہ علاقے میں چھپے تین حریت پسندوں میں میں سے ایک قاضی یاسر ہے ۔ دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں سے آج (اتوار) بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طورپر منانے کی اپیل کی ہے۔ سرینگر میں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ جمہوریت عوام کی رائے کے احترام کا نام ہے جبکہ بھارت نے ہمیشہ ظلم وجبرکے ذریعے کشمیریوں کی جمہوری آواز دبائی ہے اور گزشتہ 72برس سے فوجی طاقت کے بل پر انہیں محکوم بنا رکھا ہے۔سیدعلی گیلانی نے کہاکہ جنوری1990ء میں بھارتی فوج کے قتل عام نے بھارتی جمہوریت کے حقیقی چہرے کوبے نقاب کیاہے۔ سینئر حریت رہنما محمد اشرف صحرائی نے ایک بیان میں کہاکہ بھارت دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے تاہم اسکی جمہوریت مقبوضہ کشمیرمیں بری طرح بے نقاب ہو گئی ہے۔سینئرحریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ نے افسوس ظاہر کیا ہے کہ ایک طرف تو بھارت اپنا یوم جمہوریہ مناتاہے تاہم دوسری طرف اس نے کشمیریوں کو ان کے ناقابل تنسیخ حق، حق خودرادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم فورم نے ہڑتال کی اپیل کی حمایت کی ہے۔