بچے’لائکس‘ کے لیے جنسی زیادتی کی تصاویر خود پوسٹ کر رہے ہیں‘

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بارے میں انٹرنیٹ پر موجود ایک تہائی تصاویر خود انہی بچوں نے پوسٹ کی ہوتی ہیں۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان میں بچے زیادہ ’لائکس‘ لینے کے لیے ایسی گرافک فوٹیج شیئر کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں فعال ’انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن‘ (آئی ڈبلیو ایف) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ سال انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی خود سے لی گئی تصاویر کی تعداد میں اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور ایسی تصاویر شیئر کرنے والوں میں اکثریت 11 سے 13 سال کی عمر کے درمیان کی لڑکیوں کی ہے۔

2019 میں ایسے دو لاکھ 60 ہزار 400 ویب پیچز رپورٹ کیے گئے جو ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ 32 ہزار 700 ویب پیچز پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے حوالے سے تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں۔

آئی ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ چونکہ ایک ویب پیچ پر ہزاروں فائلیں موجود ہوتی ہیں اس لیے ایسی تصاویر کی تعداد دسیوں لاکھ ہو سکتی ہے۔

آئی ڈبلیو ایف کی چیف ایگزیکٹو سوزی ہارگریویز او بی ای کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک تہائی تصاویر خود بچوں نے پوسٹ کی ہیں اور ایسا مواد پوسٹ کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

سوزی نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’ان سائٹس پر اکثر تصاویر میں لڑکیاں کیمرے کو دیکھ رہی ہوتی ہیں، جہاں وہ ہدایات پڑھ رہی ہیں۔ وہ ایسا لائکس حاصل کرنے کے لیے کرتی ہیں۔‘’آپ انہیں سکرین پر نظر جماتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، وہ کہتی ہیں میں یہ (جنسی عمل) اس وقت تک نہیں کروں گی جب تک کہ مجھے ہزار لائکس نہیں مل جاتے۔‘

سوزی نے کہا: ’وہ ناقابل یقین حد تک اس کا شکار ہو رہی ہیں اور کچھ طریقوں سے وہ اس جنسی استحصال میں خود بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں ۔ یہ ایک زبردستی کا اور ناجائز فائدے کا رشتہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر انحصار کرتے ہوئے بچوں کو ایک شخص یا متعدد صارفین سے ہدایات مل سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ بچیوں کا خیال ہے کہ وہ کسی آن لائن بوائے فرینڈ یا دوست سے آن لائن سٹریمنگ پر ہیں جب کہ کچھ لوگ ان تصاویر کو ایڈٹ کر کے ان تصاویر یا ویڈیوز کو پیڈو فائل نیٹ ورکس کے ذریعے زیادہ وسیع پیمانے پر شیئر کر دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ بچوں کو آن لائن مقبولیت، لائکس یا سٹریمنگ پلیٹ فارم پر رینکنگ کا لالچ دے کر ورغلایا جاتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ بیشتر فوٹیجز بچوں کے بیڈ رومز میں لی گئی ہیں۔ ایک ویڈیو میں بالغ شخص کھانے پر بلانے کے لیے ان کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔

سوزی ہارگریویز نے متنبہ کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے گذشتہ سال ایسے مواد میں واقعی بہت زیادہ اضافہ دیکھا ہے۔‘

’میرا ہر ایک کے لیے پیغام ہے کہ اگر کسی تنہا بچے کو اپنے بیڈ روم میں کیمرہ اور انٹرنیٹ تک رسائی ہے تو ان کے والدین کو ان کی مناسب نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے بیڈ روم میں تنہا ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شکار نہیں ہو رہے۔‘

تقریباً 80 فیصد لڑکیوں کی تصاویر کو آئی ڈبلیو ایف کو رپورٹ کیا گیا جس نے پچھلے سال ایک لاکھ 32 ہزار 700 ویب پیچز کو ہٹا دیا تھا۔

سوزی نے کہا: ’مسٔلہ یہ ہے کہ ایسی تصاویر کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھ کر ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر تصویر ایک حقیقی بچہ ہے۔‘

’ہم اس وقت تک رکیں گے نہیں جب تک ہم ہر ایک تصویر کو ہٹا نہیں دیتے۔ ہم اس کا بار بار پیچھا کریں گے کیونکہ ہم اس کا شکار ہیں۔‘

انہوں نے تنبیہ کی کہ پیڈو فائل ابھی تک ڈارک ویب کا استعمال کر رہے ہیں تاہم آئی ڈبلیو ایف کو رپورٹ کیے جانے والا مواد انٹرنیٹ پر عام ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ’بچوں کا استحصال لوگوں کے لیے ایک ہولناک موضوع ہے لیکن بطور معاشرہ ہمیں اس بارے میں حقیقی انداز میں بات کرنی ہوگی تاکہ ہم اس صورت حال کا سامنا کر سکیں جو ہمیں درپیش ہے۔‘

حکومت کی جانب سے لائے جانے والے مجوزہ آن لائن ہارمز بل کا مقصد چائلڈ ابیوز پر مبنی تصاویر کے آن لائن استعمال کے رجحان پر قابو پانا ہے۔

ملکہ برطانیہ کی تقریر جس سے بورس جانسن کے آئینی ایجنڈے کا آغاز ہوتا ہے میں کہا گیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیز کے لیے صارفین کا خیال رکھنے کی نئی خدمات کو بھی متعارف کروایا جائے گا۔

حکومت نے گذشتہ مہینے ایک بریفنگ میں بتایا تھا: ’اس قانون سازی سے قبل حکومت عبوری طور پر دہشت گردوں کے انٹرنیٹ کے استعمال پر اور بچوں کے آن لائن استحصال کے حوالے سے ضابطہ اخلاق شائع کرے گی۔ یہ یقینی بنائے گا کہ کمپنیز ایسے مواد کو روکیں جو کہ ملکی سلامتی اور بچوں کی جسمانی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا جب نیشنل کرائم ایجنسی نے تنبیہ کی ہے کہ اس کے پاس بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی تصاویر استعمال کرنے والے افراد سے تفتیش اور ان پر مقدمہ چلانے کی قابلیت نہیں ہے۔

چیف کانسٹیبل سائمن بیلی، جو کہ بچوں کی حفاظت کے لیے نیشنل پولیس چیفس کونسل کے مشیر ہیں، نے انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’حکام بچوں کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنے والے مشتبہ افراد پر نظر رکھنا چاہتے ہیں لیکن ان پر تصاویر کے استعمال کے حوالے سے چھوٹے جرائم کا بہت دباؤ ہے۔‘

مئی میں ایک بیان میں ان کا کہنا تھا: ’ہم ہمیشہ سے اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہم اس مشکل سے راستہ نہیں نکال سکتے۔ ہم زیادہ رسک والے یا زیادہ خطرناک مجرموں کی نشاندہی نہیں کر پا رہے کیونکہ ہم پہلے سے ہی کام کے دباؤ میں ہیں۔ اس صورت حال کو بدلنا ہو گا۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ تبدیلی تمام شعبوں میں لانی ہوگی بشمول بچوں کو اس حوالے سے گھر اور سکول میں آگاہی دینے کے کہ انہیں آن لائن کس قسم کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘

سائمن نے کہا: ’ٹیک کمپنیز کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ ایسی تصاویر کو اپ لوڈ کرنے اور پھیلانے سے روکا جا سکے۔ ایسی شرائط کا اطلاق کیا جائے جن کے تحت کم خطرناک مجرموں کو اپنے مجرمانہ طرزعمل پر قانون کا سامنا کرنا پڑے۔‘