چین: کورونا وائرس سے ہلاکتیں 106 ہوگئیں، متاثرہ افراد کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرگئی

چین میں عالمی تشویش کا سبب بننے والے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے ہلاکتوں کی تعداد 106 تک پہنچ گئیں جبکہ صرف چین میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 4 ہزار 515 تک پہنچ گئی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور دیگر ممالک نے وبا کے مرکز بننے والے شہر ووہان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کی تیاری کرلی۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا وائرس سے ایک شخص کی ہلاکت سامنے آئی جبکہ صوبہ ہوبے مزید 24 افراد ہلاک ہوگئے۔وائرس کے متوقع عالمی معاشی اثرات کے خدشات کے پیشِ نظر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس مسلسل دوسرے روز بھی مندی کا شکار رہیں۔
علاوہ ازیں ووہان میں موجود امریکی قونصل خانے نے اپنے سفارتی اہلکاروں اور دیگر امریکی شہریوں کو چین سے نکالنے کی تیاری شروع کردی اس کے علاوہ جاپان، منگولیا، فرانس اور دیگر ممالک نے بھی انخلا کا منصوبہ بنایا ہے۔وبا کو قابو کرنے کے لیے چین نے لاک ڈاؤن کو توسیع دیتے ہوئے 17 شہروں تک بڑھا دیا جس کے نتیجے میں 5 کروڑ سے زائد افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
چین نے نئے قمری سال کی چھٹیوں میں 3 دن کا اضافہ کر کے اتوار تک کردی ہیں تا کہ ملک بھر میں دفاتر اور فیکٹریز بند ہونے کے باعث لوگ اپنے گھروں میں رہیں اور انفیکشن پھیلنے کا خطرہ کم سے کم ہو۔تاہم عالمی تجارت کے مرکز اور ڈھائی کروڑ کی آبادی والے شہر شنگھائی میں حکومت نے چھٹیوں میں ایک ہفتے کا اضافہ کرتے ہوئے 9 فروری تک بڑھا دیں۔چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق صرف پیر کے روز ملک میں وائرس سے متاثرہ ایک ہزار 771 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد چین بھر میں نوول کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی کل تعداد 4 ہزار 515 تک پہنچ گئی جس میں 976 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
چینی وزارت تعلیم نے غیر ملکی تعلیمی اداروں میں داخلے کے خواہشمندوں کے لیے انگریزی زبان میں مہارت کا ٹیسٹ منسوخ کردیا اور اس کے ساتھ ہی سرکاری اسکولوں اور جامعات میں نئے چینی سال کے بعد شروع ہونے والے سمسٹسرز کو بھی اگلے نوٹس تک موخر کردیا گیاسائنسدان اس وائرس کے حوالے سے زیادہ فکر مند اس لیے ہیں کہ یہ سارس وائرس سے ملتا جلتا ہے جو 800 افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔
اہم بات یہ ہے کہ نیا کورونا وائرس سارس یا زکام کی طرح آسانی سے لوگوں میں پھیلتا محسوس نہیں ہورہا کیوں کہ اب تو جو کیسز سامنے آئے اس میں متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ اور وہ طبی کارکنان شامل ہیں جن کا مریضوں سے رابطہ ہوا تھا۔وسطی چین کے علاوہ ہانگ کانگ میں 8 نئے کیسز اور مکاؤ میں کورونا وائرس کے پانچویں کیس جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں مجموعی طور پر 45 افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں چین سے تعلق رکھنے والے افراد اور وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں ووہان کا دورہ کیا تھا۔
سری لنکا نے پیر کے روز کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کی جبکہ امریکا میں 5 کیسز کے علاوہ تھائی لینڈ، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا، ویتنام، سنگاپور، نیپال، ملائیشیا، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی کورونا وائرس کے متاثرہ مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔
منگولیا نے چین کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی، اس سے قبل ہانگ کانگ اور ملیشیا اپنے شہریوں کو ہوبے جانے سے منع کرچکے ہیں جبکہ چینی حکام نے ملک بھر میں سیاحتی گروپس کے ٹور کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟
کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز(وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔ عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔
کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ڈرگ دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔
مگر سال 2020 کے اوائل میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چین میں اس وائرس کی ایک نئی مہلک قسم دریافت کی جسے نوول کورونا وائرس یا این کوو کا نام دیا گیا۔
عام طور پر یہ وائرس اس سے متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چین کو اس وقت دہری پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ ووہان اور ہوبی گنجان ترین آبادی والے علاقے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کو کسی اور جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں بلکہ اس سے مرض اور پھیل جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا