ندائے کشمیر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے احتجاجی مظاہرہ

بارسلونا(دوست نیوز)ندائے کشمیر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام بارسلونا کی معروف سیاحتی شاہراہ رامبلہ راوال پر یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے احتجاجی مظاہرہ ہوا جس کے مہمان خصوصی ہاوس آف لارڈز کے تاحیات ممبر لارڈ نذیر احمد اور صدارت قونصل جنرل علی عمران چوہدری نے کی۔احتجاجی مظاہرہ میں پاکستانی وکشمیری خواتین ،مرد اور بچوں نے شرکت کی۔ رامبلہ راوال لے کے رہیں گے آزادی، ہم چھین کے لے گے آزادی، ٹیررسٹ مودی ٹیرسٹ ،ہم کیا چاہتے آزادی کے فلک شگاف نعرے بلند ہوتے رہے،مظاہرین نے ہاتھوں میں کشمیر کے جھنڈے اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے اور دل کو ہال دینے والی تصاویر چھپی ہوئی تھیں اور یہ تصاویر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی تصویر کشی کر رہی تھیں۔
احتجاجی مظاہر تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول سے شروع ہوا۔ احتجاجی مظاہر سے لارڈ نذیر احمد ،قونصل جنرل علی عمران چوہدری، محمد اقبال چوہدری، راجہ مختار احمد سونی،میڈم ہما جمشید، ملک محمد شریف اور حافظ عبدالرزاق صادق نے خطاب کیا۔ تمام مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈوون کے چھ ماہ اور او آئی سی کا خاموش کردار پر تنقید کی اور کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی اس وقت کوئی مدد نہیں ہو رہی سولہ ہزار بچے اسکول نہیں جارہے۔اور ان کی صحت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔
لارڈ نذیر احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزاد کشمیر،گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو فوجی تربیت دی جائے۔جس طرح بھارتی آرمی چیف اور دیگر حکمران حملہ آوور ہونے کی بات کرتے ہیں ان کے مقابلہ کے لئے ہماری فوج کم تعداد میں ہے اور اس فوجی تعداد کو ہم اپنے نوجوانوں کو تیار کر کے پوری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیت کے لئے گروانڈز موجود ہیں بس انسٹرکٹرز کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح بھارت جنگ کی بات کرتا ہے ہمارے حکمرانوں کو بھی کرنی چاہیئے امن اس وقت تک امن ہے جب تک دونوں فریق امن کی بات کریں، پاکستان کی بڑی فوج اور ایٹم بم کس کے لئے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کی کارکردگی صفر ہے اور اس کے وزیر موصوف کہیں بھی پاکستان یا پاکستان سے باہر کشمیر پر بات نہیں کررہے۔گزشتہ دنوں برطانیہ آئے تو باقی تمام سرگرمیوں کا حصہ بنے لیکن کشمیر کے لئے انہوں نے وقت نہیں دیا۔ لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ یہ ریلیاں اور مظاہرے صرف کشمیریوں کو یاد رکھنے کے لئے ہیں۔ ان پر ہونے والے مظالم اور آزادی کے لئے ہمیں بڑے فورمز پر بات کرنا ہوگی۔