قاتل اور مقتول میں مکالمہ

ارحان پاموک کے ناول “اسنو” سے ایک اقتباس ترجمہ: زکریا ایوبی
ترکی کے انتہائی شمال میں شہر قارص میں واقع” نیو لائف پیسٹری شاپ ” کا منظر، باہر دو دن سے جاری برفباری کے باعث ہر چیز برف کی سفید چادر اڑھ چکی ہے۔ قارص شہر کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کا ڈائریکٹر ” نیو لائف پیسٹری شاپ “کے ایک کونے میں چائے پی رہا ہے جبکہ ایک نوجوان ان کے سامنے بیٹھا ہے جس کا چہرہ پروفیسر کی طرف اور پوزیشن ایسی کہ وہاں موجود کوئی دوسرا شخص اس کا چہرہ نہ دیکھ سکے۔ ٹی ہاؤس میں دو کسٹمرز اور ہیں لیکن وہ پروفیسر کی ٹیبل سے دور دوسرے کونے میں محو گفتگو ہیں جبکہ ٹی ہاؤس کا واحد ویٹر ٹی وی کی آواز اونچی کرکے سیاسی مباحصہ دیکھنے میں مصروف ہے۔
۔۔ہیلو سر، پہنچانامجھے ؟
معافی چاہتا ہوں، نہیں پہچانا۔
۔۔سر مجھے پتہ تھا آپ یہی کہیں گے، ہم پہلے کبھی ملے ہی نہیں تو پہچانیں گے کیسے؟میں نے کل رات آپ سے ملنے کی کوشش کی تھی ،آج صبح بھی۔ کل پولیس نے مجھے کالج کے دروازے پر روک دیا۔ صبح میں کالج کے داخلی دروازے سے اندر جانے میں تو کامیاب ہوگیا تھا لیکن آپ کے سیکرٹری نے ملنے نہیں نہیں دیا۔ پھر جب آپ کلاس روم سے نکلے تو میں آپ کے سامنے آگیا تھا۔ اب کچھ یاد آیا؟
نہیں، یاد نہیں آرہا ، معذرت۔
۔۔آپ کے کہنے کامطلب، میرا چہرہ یاد نہیں ہے یا ہماری ملاقات ؟
(پروفیسر چڑچڑاہت کی کیفیت میں )بیٹا آپ چاہتے کیا ہیں؟
۔۔ میں آپ کو سچ بتانا چاہتا ہوں، میں گھنٹوں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، بلکہ دنوں تک، روئے زمین پر ہر چیز کے بارے میں۔ آپ ہمارے شہر کی نامور ،روشن خیال اور تعلیم یافتہ شخصیت ہیں۔ بد قسمتی سے میں تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکالیکن ایک موضوع ہے جس کے بارے میں مجھے کافی کچھ معلوم ہے ۔ میں اس موضوع پر آپ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ معافی چاہتا ہوں سر، لیکن آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔
نہیں نہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
۔۔سر برا نہ منائیں تو میں بیٹھ جاؤں ادھر؟ ہم ایک اہم ٘موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرنے والے ہیں۔
پلیز، تشریف رکھیں، آپ میرے مہمان ہیں۔(کرسی کھینچنے کی آواز آتی ہے)
۔۔ آپ آخروٹ سے بنی پیسٹری کھا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں توقات میں آخروت کے بہت سارے درخت ہیں۔ آپ کبھی توقات گئے ہیں، سر؟
نہیں،مجھے کبھی توقات جانے کا موقع نہیں ملا۔
۔۔ جب کبھی آپ توقات آئیں تو میرے ہاں ٹھہریں۔ میری پوری زندگی توقات شہر میں گزری ہے۔ توقات شہر بہت ہی خوبصورت ہے۔ ترکی بھی بہت خوبصورت ہے۔ لیکن ہمارے لیے شرمندگی کا مقام ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ اپنے جیسے لوگوں کے لیے ہمارے دل میں محبت کاجذبہ موجود ہے لیکن ہم ان لوگوں سے زیادہ متاثر ہیں جو ہمارے ملک کی بے عزتی کرتے ہیں اور یہاں کے لوگوں کے دھوکہ دیتے ہیں۔ اگر میں آپ سے ایک سوال پوچھوں تو آپ برا تو نہیں منائیں گے؟سر میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ لادین تو نہیں ہیں نا؟
جی نہیں، میں لا دین بالکل بھی نہیں ہوں۔
۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لادین ہیں ، لیکن میں ان باتوں پر دھیان نہیں دیتا۔ آپ جیسے تعلیم یافتہ شخص، اللہ معاف کرے، خدا کے وجود سے انکارکیسے کر سکتا ہے؟ آپ شاید یہودی بھی نہیں ہیں، ہیں نا؟
جی میں یہودی نہیں ہوں
۔۔ پھر ،تو آپ مسلمان ہونگے؟
جی، اللہ کا شکر ہےمیں مسلمان ہوں۔
۔۔سر آپ مسکرا رہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے سوالوں کی جواب سنجیدگی سے دیں۔ اس شدید موسم کے باوجود میں توقات شہر سے صرف اس لیے آپ سے ملنے آیا ہوں تاکہ کچھ سوالوں کا جواب جان سکوں۔
آپ کو بارے میں کس نے بتایا؟
۔۔استنبول کے اخبار تو آپ کے بارے میں خاموش ہیں۔ وہاں ایسی کوئی خبر نہیں ہے کہ آپ قرانی تعلیمات کے تحت اپنا سر ڈھانپنے والی لڑکیوں کو کالج میں داخلے سے روکتے ہیں۔ ان اخباروں کو فیشن ماڈلز کے اسکینڈلز چھاپنے سے ہی فرصت کہاں۔ لیکن توقات شہر میں”پرچم”کے نام سے ایک مسلم ریڈیو اسٹیشن ہے جو ملک کے کونے کونے میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے ہمیں آگاہ رکھتا ہے۔
میں کبھی کسی مسلمان سے زیاتی کا تصور ہی نہیں کر سکتا ، کیونکہ میں خود خدا سے ڈرتا ہوں۔
۔۔ سر مجھے یہاں تک آنے میں دو دن لگے، خطرناک برفیلی سڑک پر سفر کرکے میں یہاں تک پہنچا ہوں۔ بس میں بیٹھ کر میں صرف آپ کے بارے میں ہی سوچتارہا ۔ یقین کریں مجھے آپ سے ایسے جواب کی ہی توقع تھی۔ سر ، اب میں آپ سے اگلاس سوال پوچھتا ہوں۔ پروفیسر نوری یلمز صاحب، اگر آپ خدا سے ڈرتے ہیں ،اگر آپ کو یقین ہے کہ قرآن پاک اللہ تعالی کی کتاب ہے تو پھر قران پاک میں سورہ نور کی آیت نمبر 31 کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ہاں یہ صحیح ہے، اس آیت میں واضح طور پر لکھا ہے کہ مسلمان خواتین کو اپنا سر اور چہرہ ڈھانپ لینا چاہیے۔
۔۔ مبارک ہو سر، یہ ہوتا ہے برجستہ جواب۔ سر ، آپ کی اجازت ہو تو میرا ایک اور سوال ہے۔ آپ پردہ دار لڑکیوں کے کالج میں داخلے پر پابندی کو خدا کے اس حکم کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کریں گے؟
ہم ایک سیکولر ریاست میں رہ رہے ہیں۔ سیکولر ریاست نے اسکولوں، کالجوں اور کلاس رومز میں پردہ کرنے والی لڑکیوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہے۔
۔۔ معذرت کے ساتھ سر، ایک سیکولر ریاست کا قانون خدا کے قانون کو کیسے منسوخ کر سکتا ہے؟
یہ آپ نے اچھا سوال کیا، لیکن سیکولر ریاست کا مطلب ہی یہ ہے کہ مذہب کو ریاست سے الگ تھلک رکھا جائے۔
۔۔ یہ ایک اورتیر بہ ہدف جواب ہے۔ میں آپ کا ہاتھ چومنا چاہتا ہوں؟ اپنا ہاتھ مجھے دیں (نوجوان ، پروفیسر کا ہاتھ چومتے ہوئے)شکریہ سر ، اب آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ میں آپ کی کتنی عزت کرتا ہوں۔ کیا میں ایک اور سوال پوچھ سکتا ہوں سر؟
جی، پوچھیں۔
۔۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا سیکولر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندی خدو کے وجود سے ہی انکار کردے؟
نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔
اگر ایسا نہیں ہے تو ایک سیکولر ریاست پردہ کرنے والی لڑکیوں کو کلاس رومز میں جانے سے کیوں روکتی ہے ؟ جبکہ وہ صرف اپنے مذہبی تعلیمات پر عمل کر رہی ہوتی ہیں۔
بیٹا، سچ پوچھیں تواس بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹی وی پر دن رات یہی موضوع زیر بحث رہتا ہےلیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ لڑکیاں اب بھی نقاب اتارنے سے انکاری ہیں اور ریاست اب بھی ان کو کلاس رومز میں جانے سے روک رہی ہے۔
۔۔ سر، پھر تو ایک اور سوال پوچھنا بنتا ہے؟ ہمارا آئین ہمیں مذہب اور تعلیم کی آزادی دیتا ہے تو کیا اسکارف پہننے والی لڑکیوں کو کالج سے نکال دینا آئین خلاف ورزی نہیں ہے؟ پلیز سر، مجھے بتائیں، کیا آپ کا ضمیر آپ کو ملامت نہیں کرتا؟
اگر وہ لڑکیاں اتنی ہی فرمانبردار ہیں جس طرح آپ کہہ رہے ہیں، پھر تو ان کو اپنے اسکارف اتار پھینکنا چاہیے ۔ بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟آپ کہاں رہتے ہیں اور کام کیا کرتے ہیں؟
۔۔ میں ایک ٹی ہاؤس میں کام کرتا ہوں، جو توقات کے مشہور مون لائٹ حمام کے پاس ہے۔ میرا نام اہم نہیں ۔ میں پورا دن “پرچم ریڈیو “سنتا ہوں۔ جب کبھی میں کسی مسلمان سے ہوئی زیادتی کا سنتا ہوں تو بہت اداس ہوتا ہوں۔ میں ایک جمہوری ملک میں رہنے والا آزاد شخص ہوں اور ہر فوہ کام کرتا ہوں جو مجھے خوشی دے۔ کبھی کبھی بس میں بیٹھ کر ترکی کے دوسرے کونے تک جاتا ہوں تاکہ ان لوگوں سے روبرو ہوسکوں جو مسلمانوں کو تنگ کرتے ہیں۔ پلیز سر، میرا ایک اور سوال ہے۔ کیا انقرہ سے جاری ہونے والا حکمنامہ زیادہ اہم ہے یا حکم خداوندی؟
بیٹا، اس بحث کی کوئی انتہا نہیں ہے، آپ کونسے ہوٹل میں رکے ہوئے ہیں؟
۔۔ لگتا ہے آپ مجھے پولیس کے حوالے کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ سر ،مجھ سے خوفزدہ نہ ہوں، میں کسی مذہبی تنظیم سے تعلق نہیں رکھتا۔ میں دہشت گردی کے خلاف ہوں۔ میں خدا کی محبت اور آزادانہ تبادلہ خیال پر یقین رکھتا ہوں ۔ انتہائی تیز طبیعت کا مالک ہونے کے باوجود کبھی بحث کو جھگڑے تک نہیں لے کر جاتا۔ معافی چاہتا ہوں سر، بس میرے چند سوالوں کے جواب دیں۔ کالج کے باہر اسکارف پہننے والی لڑکیوں کے ساتھ آپ جس جابرانہ طریقے سے پیش آیا، کیا اس کے باوجود آپ کا ضمیر ملامت نہیں کرتا، جبکہ آپ کو پتہ ہے کہ وہ صرف قران پاک کے اس حکم کی پیروی کر رہی تھیں جو سورہ النور میں دیا گیا ہے۔
بیٹا، قرآن پاک میں تو یہ بھی کہتا ہے کہ چوروں کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں لیکن ریاست ایسا نہیں کرتی، پھر آپ اس کی مخالفت کیوں نہیں کرتے؟
۔۔ زبردست جواب دیا ہے سر آپ نے ۔ مجھے ایک بار پھر اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینے دیں۔ آپ ایک چور کے ہاتھوں کا موازنہ ہماری بچیوں کی عزت کے ساتھ کیسے کر سکتے ہیں؟ امریکی سیاہ فام پروفیسر مارون کنگ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، اسلامی ممالک میں جہاں خواتین اپنا سر ڈھانپتی ہیں، زنا کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ہراسگی کے واقعات تو سرے سے ناپید ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک خاتون اپنا سر ڈھانپتی ہے تو وہ یہ اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ مجھے ہاتھ مت لگاؤ۔نقاب کرنے والی لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر کیا ہم انہیں دیوار سے نہیں لگا رہے؟ننگے سر گھومنے والی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرکے کہیں انہیں جنسی ہراسگی کی جانب تو نہیں دکھیل رہے جیسے یورپی خواتین کو دکھیلا گیا تھا۔ میں اپنے الفاظ کی معافی چاہتا ہوں ، لیکن کیا ہم ایسا کرکے ایک دلال کا کردار ادا نہیں کر رہے ؟
بیٹا، میری پیسٹری ختم ہوچکی ہے، مجھے جانا ہوگا۔
۔۔سر، اپنی نشست پر بیٹھے رہیں۔ آپ اپنی نشست پر بیٹھے رہیں گے تو مجھے یہ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی( جیب سے کوئی چیز نکالتے ہوئے) کیا آپ دیکھ رہے ہیں ، یہ میرے ہاتھ میں کیا ہے؟
جی، یہ بندوق ہے۔
۔۔ آپ بالکل صحیح سمجھ رہے ہیں سر،مجھے امید ہے آپ برا نہیں منائیں گے۔ میں بہت دور سے صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ آپ مجھے سننے سے انکار کر سکتے ہیں اس لیے میں احتیاطاََ یہ بندوق ساتھ لی تھی۔
بیٹا، آپ کا نام کیا ہے؟
۔۔وحید ، سلیم یا کچھ اور، سر، سچ پوچھو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اُن بے نام ہیروز کا بے نام محافظ ہوں ، جو ناکردہ گناہوں کی سزا ہیں۔ ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں اپنے مذہبی عقائد پر کاربند رہنا چاہتے ہیں جو مادیت پرست سیکولرزم کا غلام بن چکا ہے۔ میں کسی تنظیم کا حصہ نہیں ہوں۔ میں انسانی حقوق کا احترام کرتا ہوں اور مجھے تشدد سے نفرت ہے۔ اس لیے میں اپنی بندوق کی نمائش نہیں کرتا۔ آپ سے میں صرف اپنے سوالوں کے جواب کا طلبگار ہوں۔
سر، میں دوبارہ آپ کو آغاز میں لے کر جاتا ہوں۔ یاد کریں ، آپ نے ان لڑکیوں کے ساتھ کیا کیا ۔ والدین نے ان بچیوں کو انتہائی محبت کے ساتھ پال پوس کر بڑا کیا ۔ وہ اپنے والدین کی آنکھ کا تارہ تھیں۔ وہ بہت ذہین تھیں۔ وہ تعلیم کے لیے سخت تگ و دو کر رہی تھیں۔ وہ کلاس میں بھی سب سے آگے تھیں۔ پھر انقرہ سے ایک آرڈر آیا اور آپ نے ان لڑکیوں کے وجود سے ہی انکار کردیا۔ ان میں سے کسی نے اپنا نام رجسٹر پر درج کیا تو آپ نے وہ نام مٹا دیا، صرف اس لیے کہ وہ اسکارف پہنتی تھی۔ سات لڑکیاں آپ کے پاس بیٹھی ہوں تو آپکا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے ان میں سے اسکارف پہننے والی لڑکی وہاں موجود ہی نہیں ہے۔ آپ چھ لڑکیوں کے لیے چائے منگواتے ہیں جبکہ وہاں سات لڑکیاں تھیں۔ آپ کو پتہ ہے آپ نے ان لڑکیوں کو رلا دیا ہے، پھر بھی آپا کا دل نہیں بھرا۔ جلد ہی انقرہ سے ایک اور حکم آیااور آپ نے ان لڑکیوں کو کلاس سے نکال دیا۔ آپ نے انہیں کلاس رومز سے اٹھا کر راہدریوں میں پھینک دیا، پھر آپ نے ان پر راہدریاں بھی بند کر دی اور انہیں اٹھا کر باہر سڑک پر پھینک دیا۔ پھر جب وہ لڑکیاں اپنے خدشات اور گزارشات لے کر کالج کے دروازے پر آئیں، آپ نے فون اٹھایا اور پولیس بلا لی۔
ہم نےتو کوئی پولیس نہیں بلائی۔
۔۔ مجھےپتہ ہے آپ اس بندوق سے ڈر رہے ہیں۔ لیکن پلیز سر، جھوٹ نہ بولیں۔ اس رات جب آپ نے ان لڑکیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا اور گرفتار کروایا، کیا آپ کے ضمیر نے آپ کو سونے دیا؟ یہی میرا سوال ہے۔
جی بالکل، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ان لڑکیوں کی وجہ سے ہمیں کتنی مشکلات جھیلنی پڑی ۔ انہوں نے اسکارف کو ایک علامت بنایا ہوا ہے، اور ان لڑکیوں کو ایک سیاسی مہرے کے طور پر استعمال کیا جارہاہے۔
۔۔ آپ اسے سیاسی کھیل کیسے کہہ سکتے ہیں سر؟ جب ان لڑکیوں کو اپنی آبرو اور تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں اور خود کشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں، اور آپ کو یہ سب ایک سیاسی کھیل لگتا ہے؟
بیٹا، آپ کو کبھی ایسا نہیں لگا کہ اس کھیل کے پیچھے بیرونی طاقتیں ہوسکتی ہیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کس طرح اسکارف کے معاملے کو ایک سیاسی رنگ دیا جارہا ہے تاکہ وہ ترکی کو کمزور اور تقسیم کر سکیں۔
۔۔سر، آپ ان لڑکیوں کو دوبارہ کالج میں آنے دیں، اسکارف کو مسئلہ کل ہی ختم ہوجائے گا۔
یہ میرا فیصلہ تھوڑی ہے، یہ حکم انقرہ سے آیا ہے۔ خود میری بیوی بھی اسکارف پہنتی ہے۔
۔۔ سر دماغ کی دہی نہ بنائیں۔ صرف میرے سوال کا جواب دیں، آپ کا ضمیر ملامت کرتا ہے یا نہیں ؟
بیٹا، میں بھی ایک باپ ہوں۔ ان لڑکیوں کے ساتھ جو ہوا مجھے بھی اس کا افسوس ہے۔
۔۔ دیکھیں سر، میں خود کو قابو میں رکھنے والا انسان ہوں لیکن ایک بار میرا دماغ گھوم گیا ، تو یہ سب ختم ہوجائے گا۔ پتہ ہے، جب میں جیل میں تھا، ایک شخص کو صرف اس لیے مار مار کر لہولہان کر دیا کہ اس نے جمائی لیتے ہوئے منہ پر ہاتھ نہیں رکھا تھا۔ اس لیے مجھے اِدھر اُدھر گھمانے کی کوشش نہ کریں۔ میرے سوال کا جواب دیں ۔
بیٹا، آپ نے کیا پوچھا تھا؟ ۔۔۔۔ یہ بندوق ذرا نیچے کر لیں۔
۔۔ لادین کہیں کا، میں نے پوچھا تھا ، کیا آپ کا ضمیر ملامت نہیں کرتا؟
یقیناََ، میرا ضمیر ملامت کرتا ہے۔
۔۔ پھر کیوں آپ بضد ہیں؟ کیا اس لیے کہ آپ شرف سے عاری ہیں؟
بیٹا، میں ایک استاد ہوں، میں آپ کے والد کی عمر کا ہوں۔ کیا یہ قرآن میں ہے کہ آپ اپنے بڑوں پر یوں بندوق تان لیں؟
۔۔ آپ قران کا لفظ بھی اپنی زبان پر نہ لائیں۔سن رہے ہو؟ اور اَدھر اُ دھر دیکھنا بھی بند کرو۔ اگر آپ نے مدد کے لیے کسی کو پکارنے کی کوشش کی تو میں ہچکچاؤں گا نہیں، آپ کو گولی مار دوں گا۔ سمجھ آئی میری بات؟
جی سمجھ گیا ہوں۔
۔۔اب میرے سوال کی طرف آئیں۔ اگر اس ملک کی لڑکیاں اسکارف پہننا بند کر دیں تو اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ مجھے کوئی ایک فائدہ بتا دیں۔ میں آپ کو گولی مارے بغیر جانے دوں۔
میرے بچے، میری اپنی بھی ایک بیٹی ہے۔ وہ اسکارف نہیں پہنتی۔ میں ان کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرتا، بالکل ایسے ہی جیسے میں اپنی اہلیہ کے اسکارف پہننے کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔
۔۔ آپ کی بیٹی نے اسکارف نہ پہننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ کیا وہ فلم اسٹار بننا چاہتی ہیں؟
پتہ نہیں۔ وہ انقرہ میں پبلک ریلیشن پڑھتی ہے لیکن جب سے اسکارف کے معاملے پرمجھے نشانہ بنایا جارہاہے ، وہ میرے ساتھ کھڑی ہے۔ جب بھی میں اداس ہوتا ہوں، جب بھی مجھے کوئی دھمکی ملتی ہے، وہ مجھے انقرہ سے فون کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ابو جی اگر مجھے ایسی کلاس روم میں جانا پڑجائے جو اسکارف پہننے والی لڑکیوں سے بھری ہو تو میں بغیر اسکارف کے کلاس روم میں داخل ہونے کی جرات نہیں کر پاؤں گی۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اسکارف پہننے پر مجبور ہوجاؤں گی۔
۔۔ سفاک انسان، آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ جب آپ نے اسکارف پہننے والی لڑکیوں کو پولیس کے ذریعے گھسیٹا تو آپ کے ذہن میں یہ بات تھی؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ آپ نے ان لڑکیوں کو صرف اس لیے خود کشیوں پر مجبور کیا تاکہ اپنی بیٹی کو خوش کر سکیں؟
ترکی میں لاکھوں خواتین وہی سوچتی ہیں جو میری بیٹی سوچتی ہے۔
۔۔ جب اس ملک کی نوے فیصد خواتین اسکارف پہنتی ہیں، تو ان چند فلم اسٹارز کی بات کون سنے گا۔ آپ جیسے بے شرم انسان کو اپنے جسم کی نمائش کرنے والی بیٹی پر فخر ہوگا۔ لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ میں کوئی پروفیسر تو نہیں ہوں لیکن ان چیزوں کے بارے میں آپ سے زیادہ جانتا ہوں۔
ٹھیک ہے بیٹا، بندوق کا رخ تو دوسری طرف کر لیں، غلطی سے یہ بندوق چل گئی تو آپ زندگی بھر افسوس کریں گے۔
۔۔ مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا ؟ اگر میں شدید موسم میں دو دن کے سفر کرنے کے بعد ایک لادین کو ختم نہ کرسکوں تو اس سفر کا فائدہ کیا؟ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے ،ہر اس شخص کو قتل کرنا چاہیے جو مسلمان پر ظلم ڈال رہا ہو۔ لیکن کیونکہ مجھے آپ پر ترس آرہا ہے اس لیے میں آپ کا ایک آخری موقع دوں گا۔ مجھے ایک وجہ بتا دیں کہ اسکارف پہننے والی لڑکیوں کے سر سے اسکارف چھین کر آپ کا ضمیر ملامت کیوں نہیں کرتا؟ میں قسم کھاتا ہوں آپ کو گولی نہیں ماروں گا۔
بغیر اسکارف والی لڑکی معاشرے میں آرام دہ محسوس کرتی ہے اور زیادہ معزز سمجھی جاتی ہے۔
۔۔ یہ سوچ آپ کی وہ فلم اسٹار بیٹی کی ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسکارف خاتون کو ہراسگی اور زنا سے محفوظ رکھتا ہے۔ہم نے یہ بات کئی ایسی خواتین سے سنی ہے جو پہلے اسکارف نہیں پہنتی تھیں، بعد میں پہننے لگیں، جیسا کہ سابقہ بیلی ڈانسر ملیحت سندرا۔ جیسا کہ امریکی سیاہ فام پروفیسر مارون کنگ نے کہا ہے کہ اگر فلم اسٹار الزبتھ ٹیلر بیس سال سے پردہ کر رہی ہوتی تو وہ اپنے موٹاپے کے خوف سے ڈپریشن کا شکار نہ ہوتی، اور یوں ان کی زندگی کا خاتمہ پاگلوں کے ہسپتال میں نہ ہوتا۔ معذرت کے ساتھ سر، کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟ ۔۔۔۔آپ ہنس کیوں رہے ہیں سر؟ کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں کوئی مذاق کر رہا ہوں؟
بیٹا، میرا یقین کریں، میں ہنس نہیں رہا۔ اگر میں ہنس بھی رہا ہوں تو یہ اعصابی دباؤ کی وجہ سے ہے
۔۔ نہیں آپ جان بوجھ کر ہنس رہے ہیں۔
پلیز میرا یقین کریں، مجھے اس ملک کے تمام لوگوں سے ہمدردی ہے۔ جیسا کہ آپ، جیسا کہ وہ اسکارف پہننے والی لڑکیاں جو اب مشکل میں ہیں۔
۔۔ مجھے مکھن لگانے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔چند دن پہلے کی بات ہے کہ عدالت اسلامی کے حریت پسندوں نے آپ کو موت کی سزا سنائی تھی۔ پانچ دن پہلے سزا پر عمل در آمد کروانے کے لیے مجھے یہاں قارص بھیجا گیا ۔ اگر آپ ان بے چاری لڑکیوں کی صورتحال پر نہ ہنستے تو شاید میں آپ کو معاف کردیتا۔ کاغذ کا یہ ٹکڑا اٹھائیں ،عورتوں کی طرح رونا بند کریں۔ اس کاغذ کو اونچی آواز میں پڑھیں، جلدی کریں۔ اگر آپ نے جلدی نہیں کی تو میں آپ کو گولی ماردوں گا۔
(پروفیسر پڑھنا شروع کرتا ہے) میں، پروفیسر یلمز، ایک لادین ہوں۔۔۔۔ بیٹا، میں لادین نہیں ہوں۔
۔۔ پڑھیں پڑھیں، جاری رکھیں۔
بیٹا، آپ مجھے گولی نہیں ماریں گے نا؟
۔۔ اگر آپ نے پڑھنا جاری نہیں رکھا تو میں آپ کو گولی ماروں گا۔
’’میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ایک ایسے خفیہ منصوبے کا حصہ ہوں جس کا مقصد سیکولر ترکی کے مسلمانوں سے ان کا مذہب اور ان کی عزت چھین کر انہیں مغرب کا غلام بنانا ہے۔ جو لڑکیاں قرآن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اسکارف اتارنے سے انکاری تھیں، میں نے ان پر زمین تنگ کر دی اور ان میں سے ایک لڑکی نے دباؤ برداشت نہ کر پائی اور خودکشی کر لی‘‘ بیٹا اگر آپ کی اجازت ہو تو مجھے ایک بات پر اعتراض ہے۔ میں آپ کا ممنوں رہوں گا اگر اپنے میری یہ گزارش اس کمیٹی تک پہنچائیں جس نے آپ کو یہاں بھیجا ہے۔ کبھی کسی لڑکی نے اسکارف کے معاملے پر خودکشی نہیں کی۔ رپورٹ میں یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ لڑکی ذہنی بیماری کا شکار تھی، اس لیے خود کشی کر لی۔
۔۔ اس نے جو خود کشی سے پہلے آخری پیغام چھوڑا تھا، اس میں تو یہی لکھا ہے۔
بیٹا، میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ۔۔۔پلیز بندوق ذرا نیچی کر لیں۔۔۔ وہ لڑکی تعلیم یافتہ ہی نہیں تھی، اس کی شادی ان سے پچیس سال بڑے ایک پولیس افیسر سے کر دی گئی تھی۔
۔۔ شٹ اپ، بے شرم، ایسا تو شاید آپ کی طوائف بیٹی کرے گی۔
بیٹا ایسا نہ کریں، ایسا نہ کریں، اگر آپ نے مجھے گولی ماری تو آپ اپنا مستقل تاریک کریں گے۔
۔۔ معافی مانگیں ۔
معافی چاہتا ہوں بیٹا، مجھے گولی نہ ماریں۔ دیکھیں میں کس عمر کو پہنچ گیا ہوں، دیکھومیں رو رہا ہوں۔ میں آپ سے بھیگ مانگ رہا ہوں۔ مجھ پر رحم کریں۔ خود پر بھی رحم کریں۔ آپ ابھی بہت چھوٹے ہیں اور آپ ایک قاتل بننے جارہے ہیں۔
۔۔ پھر اس بندوق سے خود کو ہی گولی ماردیں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ جب کوئی خوکشی کرتا ہے تو کتنا درد ہوتا ہے۔
بیٹا، میں ایک مسلمان ہوں اور میں خودکشی کے سخت خلاف ہوں۔
۔۔ میں نے کہا ، پڑھتے جائیں۔
’’میں نے جو کچھ کیا اس میں مجھے سخت شرمندگی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں موت کا حقدار ہوں اور امید کرتا ہوں کہ خدا مجھے معاف کرے گا‘‘۔بیٹا، اس بوڑھے آدمی کو کچھ دیر کے لیے رونے دیں۔ مجھے آخری بار میری بیوی اور بیٹی کو یاد کرنے دیں۔
۔۔ ان لڑکیوں کے بارے میں سوچیں جن کی زندگی آپ نے برباد کردی۔ اگر وہ لڑکی ذہنی دباؤ کا شکار تھی تو وہ چار لڑکیاں، جو کالج کے تیسرے سال میں تھیں، لیکن آپ نے انہیں کالج سے نکال دیا اور ان میں سے ایک نے خودکشی کر لی۔
بیٹا مجھے اس سب کا انتہائی افسوس ہے۔ دیکھیں اگر آپ نے مجھے گولی مار ی اور خود کو قاتل بنا لیا تو تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا؟ آپ یہ بھی تو سوچیں۔
۔۔ ٹھیک ہے مجھے کچھ دیر سوچنے دیں (کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا جاتی ہے) میں نے سوچ لیا ، سر۔ اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب میں قارص کی گلیوں میں دو دن سے گھوم پھر رہا تھا اوریہ فیصلہ کر لیا تھا کہ شاید جس کام کے لیے آیا ہوں وہ میری قسمت میں نہیں ہے۔ یہ سوچ کر میں توقات جانے والی بس کا ٹکٹ لیا اور آخری چائے پینے یہاں آگیا۔
بیٹا، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مجھے قتل کریں گے اور آخری بس میں بیٹھ کر توقات روانہ ہونگے ، میں آپ کو خبردار کر رہا ہوں کہ قارص کی تمام سڑکیں برفباری کی وجہ سے بند ہیں۔ چھ بجے کی بس بھی کینسل ہوگئی ہے۔ آپ یہ کرکے پچھتائیں گے۔
۔۔ میں تو یہاں سے جارہا تھا، پھر خدا نے آپ کو یہاں “نیو لائف پیسٹری شاپ” میں بھیجا۔اگر خود اللہ تمھیں معاف کرنے پر راضی نہیں ہے تو میں کیوں کر تمھیں معاف کروں ؟ اپنے آخری الفاظ کہہ دیں۔ کہہ دیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔
بیٹا بیٹھ جاؤ، میں تمھیں خبردار کر رہا ہوں ، ہماری ریاست تم سب کو پکڑ لے گی اور تمھیں لٹکا دے گی۔
۔۔ میں نےکہا،، کہہ دیں اللہ سب سے بڑا ہے۔
پر سکوں ہوجاؤں بیٹا، بیٹھ جاؤ۔ ایک بار پھر سوچ لو۔ ٹریگر نہ دباؤ۔ رک جاؤ۔ (گولی چلنے کی آواز آتی ہے۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد کرسی کھینچنے کی آواز آتی ہے) نہیں بیٹا، نہیں۔ (مزید دو گولیاں چلنے کی آواز آتی ہے اور پھر طویل خاموشی چھا جاتی ہے)۔