وزیراعظم عمران خان کا ہر سال 50ہزار اسکالر شپ دینے کا بڑا اعلان

لیہ : وزیراعظم عمران خان نے ہر سال 50ہزاراسکالرشپ دینے کا اعلان کردیا اور کہا آنےوالےدنوں میں مزیدخوشخبریاں ملیں گی ، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نےاحساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام کااجرا کردیا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ثانیہ نشتر کو اس پروگرام کی مبارکباد دیتاہوں ، میں پاکستان کا نظریہ آپ کےسامنے رکھنا چاہتاہوں ، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں ، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہی نظریہ پاکستان تھا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج تک کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھا جہاں امیر اور غریب میں فاصلہ ہو، ملکی ترقی میں امیر امیر ہوگیا عام آدمی نیچے ہی رہا، امیر اور غریب میں فاصلہ بڑھتا رہا، نبیﷺنےلوگوں کوغربت سےنکال کر مسلمانوں کوعظیم قوم بنایا۔
عمران خان نے کہا چین کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ 70کروڑلوگوں کوغربت سےنکالا ، لوگوں کو غربت سے نکالنا ہی پاکستان کاخواب ہے، ہم نیچے سے لوگوں کو اوپر اٹھانے کی کوشش ہے ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی باریہ پروگرام شروع ہورہاہے، خواتین کو گھر چلانےکیلئےایک گائے ،ایک بھینس اور تین بکریاں دیں گے اور ہر ماہ 80ہزار لوگوں کو بغیر سود قرضے دیئے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 50 ہزاراسکالرشپ ہرسال دی جائیں گی، غریبوں کیلئے سونے والوں کیلئے ہر جگہ پناہ گاہ بنائیں گے، اب تک 180پناہ گاہ بن چکی ہیں اور انشااللہ بناتے جائیں گے، جو مزدور سڑکوں پر سوتے ہیں وہ وہاں رہ سکتے ہیں، صحت کے نظام میں پاکستان میں پہلی بار انقلاب آرہاہے۔
وزیراعظم نے کہا انشااللہ ایساپاکستان بنےگاکہ کسی آدمی کوسڑک پرنہیں سوناپڑےگا، ہم غریب لوگوں کیلئے قانون لارہے ہیں ، کسی غریب کوعدالت میں انصاف کیلئے جانا پڑا تو حکومت وکیل فراہم کرے گی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اب تک امیر،امیر اور غریب غریب سےغریب تر ہوتا رہا، اب تک پنجاب کے50 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیے جا چکے ہیں، اب ہمیں 60 لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دینے ہیں، ہیلتھ کارڈ سے 7لاکھ 20ہزار روپے کا علاج مفت ہوسکےگا۔
انھوں نے کہا کہ اسکولوں ، تعلیمی نظام پرکوشش کررہےہیں کہ بہترین تعلیم ملے، سسٹم ٹھیک کررہےہیں کہ ملک میں ایک نصاب ہو، امیر کیلئے الگ غریب کیلئے الگ نصاب نہیں ہوگا سب کو ایک تعلیم ملےگی، تعلیم کانظام ٹھیک کرنے لگے ہیں، جوآسان نہیں70سال سے خراب نظام ہے، سرکاری اسکولوں میں اگر ٹیچرنہ آئیں توسزا اور جزا کانظام ہوگا، جن اسکولوں میں استاد نہیں آتے، ان کی جگہ دوسرے کو رکھاجائےگا۔
پنجاب پولیس کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پنجاب کے آئی جی شعیب دستگیر کومبارکباد دیناچاہتاہوں، آئی جی کوہر ضلع میں بڑے بدمعاشوں کو پکڑنے کیلئے کہاہے، پولیس کا نظام بہتر بنا رہے ہیں، جب اپنےحلقےمیں جاتاتھاجوکوئی نظام نہیں تھا، اب تک عام آدمی کوتحفظ نہیں ملتاتھا، آئی جی پنجاب میں بڑے بڑے چوروں ڈاکوؤں کوپکڑیں، پولیس بڑے ڈاکوؤں کو جیل میں ڈالے چھوٹے خود ٹھیک ہوجائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب انصاف کانظام برابرنہ ہو، ملک مشکل وقت سے نکل گیا ہے مگر اب بھی آگے بڑے چیلنجز ہیں، پہلے مقروض ملک تھا قرضے لیے ہوئے تھے، بیرون ملک ہر سال قرضوں کی قسطیں واپس کرنا تھیں، ہم وقت پرقسطیں واپس نہ کرتےتوملک ڈیفالٹ کرجاتا اور آج جتنی مہنگائی ہےاس سےدگنی مہنگائی ہوجاتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ75فیصدکم ہواہے، روپیہ گررہاتھا اب رک گیا اور اوپر آیاہے، آنے والےدنوں میں مزید خوشخبریاں ملیں گی، میں جو کچھ بھی بناہوں اپنی والدہ کی وجہ سے بنا، ہم نے پاکستان کی ماؤں کی مدد کرنی ہے ، مدد کریں گے تاکہ مائیں اپنے آپ اور خاندان کو بھی اوپر لاسکیں