اسکاٹ لینڈ خواتین کو حیض میں استعمال کی اشیا مفت دینے والا پہلا ملک

برطانیہ میں واقع اسکاٹ لینڈ جلد ہی دنیا کا وہ پہلا ملک بن جائے گا جو تمام عمر کی خواتین کو خصوصی ایام کے دوران استعمال ہونے والی ضرورت کی تمام چیزیں مفت فراہم کرنا شروع کرے گا۔تقریبا 55 لاکھ کی آبادی والا اسکاٹ لینڈ اس وقت دنیا کا وہ واحد ملک بھی ہے جہاں اسکول و کالجز کی طالبات کو حیض کے دوران استعمال ہونے والی تمام اشیا کی مفت فراہم کر رہا ہے۔
اسکاٹ لینڈ نے 2018 میں اسکول و کالجز کی طالبات کو خصوصی ایام کے دوران ضرورت میں آنے والی چیزوں ’مثلا پیڈز، ٹاول اور ٹیمپون‘ کی مفت فراہمی کا آغاز کیا تھا۔اور اب اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے خواتین کو حیض کے دوران استعمال میں آنے والی تمام چیزوں کی مفت فراہمی کا مجوزہ بل بھی منظور کرلیا جس کے بعد جلد ہی ملک میں خواتین کو اپنی ضرورت کی تمام چیزیں مفت ملنا شروع ہو جائیں گی۔
اسکاٹش رکن پارلیمنٹ مونیکا لینون کی جانب سے پیش کیا گیا ’پیرڈ پراڈکٹس اسکاٹ لینڈ بل‘ کو کثرت سے منظور کرلیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ بل کی مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں پڑا اور اس کی حمایت میں 120 ارکان نے ووٹ ڈالے، جس کے بعد اس بل کو قانون بنانے کے لیے پارلمینٹ میں اس پر بحث ہوگی۔
بل پر پارلیمنٹ میں بحث کے بعد اسے ملک کی وزیر اعظم کی جانب سے قانون میں تبدیل کیا جائے گا، جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کی خواتین کو حیض کے دوران استعمال میں آنے والی تمام چیزوں کی مفت فراہمی شروع ہو جائے گی۔مذکورہ بل کے قانون بن جانے اور خواتین کو اشیا کی مفت فراہمی کے بعد حکومت پر سالانہ تقریبا 3 کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ساڑھے تین ارب تک کے اخراجات آئیں گے۔
مذکورہ بل کے مطابق خواتین کو ایام خصوصی کے دوران ضرورت میں پڑنے والی چیزوں کی مفت فراہمی کے لیے کمیونٹی سینٹرز سمیت یوتھ کلبز کو استعمال کیا جائے گا جب کہ بعض میڈیکل اسٹورز پر بھی ان مصنوعات کو مفت فراہمی کے لیے رکھا جائے گا۔
خواتین ضرورت کے مطابق اپنے خصوصی ایام کے موقع پر اپنی من پسند چیز کو مفت حاصل کر سکیں گی اور خواتین کو ’پیڈز کے علاوہ ٹاول اور ٹیمپون‘ بھی مفت مل سکیں گے۔ٹیمپون ایک خاص طرح کا آلہ ہے جسے خواتین ’پیڈز‘ کے متبادل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
دنیا بھر میں کئی خواتین ایام خصوصی کے دوران پیڈز کے بجائے اب ’ٹیمپون‘ اور مینسٹرل کپ‘ استعمال کرتی دکھائی دیتی ہیں