بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام میں فراڈکیسےہوتاہے

جب کسی کو آسانی سے لاکھوں روپے کمانے کا موقع مل رہا ہو تو وہ نظام کے ساتھ کھیل کھیلنے کا سوچ سکتا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے ایسے کھیل میں سب سے اہم کردار رقوم تقسیم کرنے والے ایجنٹس کا ہوتا ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سینئر ڈائریکٹر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ان کوعلم ہے کہ کس طرح فراڈ کیا جاتا ہے اور وہ اس کی تردید نہیں کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ اس غبن کوروکنے کےلیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ فروری کے مہینے کی رقوم کی ادائیگیاں نہیں کی جاسکی ہیں اور متعلقہ بینکوں کے ساتھ بیٹھ کر اس نظام میں موجود دشواریوں کو دور کرنے کا کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں کسی پریشانی سے بچا جاسکے۔
بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ہر ماہ57 لاکھ خاندانوں کو غیر مشروط طور پر رقم منتقل کی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہر 3 ماہ بعد 5ہزار روپے دئیے جاتے ہیں۔ اس کو تبدیل کرکے ہر ماہ 2ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ سال 2018 میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام نے 108 ارب روپے میں سے 98 ارب روپے تقسیم کئے جو ان کوحکومت اور ڈونرز کی جانب سے ملے تھے۔ سال 2017 میں 107ارب روپے میں سے 103 ارب روپے تقسیم کئے گئے۔
یہ رقم ایسی دکانوں کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے جہاں برانچ لیس بینک کا بورڈ لگاہوا ہوتا ہے۔ ان دکانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ایک آئی ڈی جاری کی جاتی ہے۔ ان دکانوں کو پوائنٹ آف سیل کہا جاتا ہے۔
کسی خاتون کے لیے اس پروگرام سے رقم حاصل کرنے کےلیے تصدیق شدہ فہرست میں ہونا ،نادرا ڈیٹا بیس میں ہونے سمیت قومی شناختی کارڈ اور تسلیم شدہ فنگر پرنٹس ہونا لازمی ہے۔ اس کے بعد انھیں متعلقہ دکان پر جانا ہوتا ہے اور اپنے انگوٹھےکےنشان سے بائیومیٹرک تصدیق کروانا ہوتی ہے جس کے بعد تمام مراحل سے گزر کر انھیں 2000 روپے ملتے ہیں۔

ہیرا پھیری
دکان پر موجود شخص پروگرام سے رقم حاصل کرنےوالےافراد سے کمیشن کے نام پر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ مطالبہ غیرقانونی ہوتا ہے اور پروگرام میں ایسا کوئی کمیشن مقرر ہی نہیں ہے۔ لیاری کی ایک خاتون نے بتایا کہ دکان والے ہر شخص سے 200 روپے لیتے ہیں۔ کمیشن نہ دینے کی صورت میں وہ رقم نہیں دیتے۔
انھوں نے بتایا کہ کچھ خواتین کوعلم ہے کہ ایسا کمیشن جائز نہیں ہے لیکن وہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں اور 200 روپے ادا کردیتی ہیں۔پروگرام کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہر دکان دار تقریبا 5000 افراد کو رقم تقسیم کرتا ہے، اگر ہر خاتون سے تقریبا 200 روپے کمیشن لیا جاتا ہے تو ایک دکان والا تقریبا 10 لاکھ روپے بنالیتا ہے۔
لیاری سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان کی موجودگی میں دکان والا ان سے یا کسی بھی عورت سے کمیشن کی رقم نہیں لے سکتا،انھوں نے اس ہیرا پھیری کی شکایت بھی کی ہے۔
اس ہی علاقے کی ایک اور خاتون نے بتایا کہ اس ہیرا پھیری کی اعلیٰ حکام تک نشان دہی کرنا فائدہ مند نہیں ہے۔وہ پروگرام کے دفتر جانے کے لیے کیوں اتنی رقم خرچ کریں،اس لئے وہ ہی کمیشن کی رقم دےدیتی ہیں۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی کمیشن دینے میں حجت کرے تو اس کو بعد میں 300 روپے کمیشن کے طور پر دینے پڑتے ہیں۔ ہر کوئی اس ہیرا پھیری کا عادی ہوچکا ہے اس لیے کوئی آواز ہی نہیں اٹھاتا۔
بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ڈائریکٹرفوزیہ بشارت نے بتایا کہ انھوں نے شو مارکیٹ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی اس دکان کے کوائف متعلقہ بینک کو بھیجوائے تاکہ اس دکان والے کی آئی ڈی کی منسوخ کیا جائے کیوں کہ اس کے خلاف شکایات بڑھتی جارہی تھیں۔
کچھ دکان داروں نے دعویٰ کیا کہ رقم حاصل کرنے والے کچھ افراد شکریہ کے طور پر کچھ رقم دیتے ہیں۔ تاہم ایک خاتون نے بتایا کہ اگر وہ اتنی مالدار ہوتیں کہ دکان داروں کو کچھ رقم خوشی سے دینے کی استداد بھی رکھتیں تو کیوں اپنا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں لکھواتیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سابق چئیرمین قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں ہیر پھیر ممکن نہیں اور لوگوں کا اس سے متعلق باتیں منسوب کرنا درست نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لوگ اتنے سادہ نہیں ہیں کہ وہ دکان دار کو کمیشن کے نام پر ایسے ہی رقم دیتے رہیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں پر لوگ چند پیسوں کے لیے بسوں میں لڑتے ہیں، وہ کس طرح دکان دار کو 200 روپے کمیشن کی مد میں دے دیں گے، تھوڑے کیسز ایسے ہوئے ہونگے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہیرا پھیری اس قدر بڑھ چکی ہے۔
جعلسازی
پوائنٹ آف سیلز کی دکانوں پر اس پروگرام کے علاوہ بھی صارفین کےلیے برانچ لیس بینکنگ کی سہولت موجود ہے، جیسےایزی پیسہ اور جاز کیش کی رقوم دی جاتی ہیں۔ تاہم ان ادائیگیوں کے لیے ان کو بینکوں سے 9 روپے کمیشن ملتا ہے۔
مثال کے طور پر کراچی سے کسی کو بہاولپور رقم بھجوانی ہے،تو وہ ایجنٹ کے پاس جائیں گے۔ یہ ایجنٹ بینک کی جانب سے مقررہ کردہ ہوتے ہیں اور انھیں موبائل بینکنگ منی ٹرانسفر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ پاکستان کا ہر بینک اس سروس کی پوائنٹ آف سیلز ایجنٹ کے ذریعے اجازت دیتا ہے۔ پوائنٹ آف سیلز ایجنٹ یعنی دکان دار رقم منتقلی کی تھوڑی سی فیس یا کمیشن لیتا ہے۔
ایجنٹ نے بتایا کہ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب بینک کی جانب سے دباؤ آتا ہے کہ مقررہ مدت میں مطلوبہ ہدف کو پورا کیا جائے۔ مثال کے طور پر ایک ایجنٹ کو ایک ماہ میں 3 لاکھ روپے منتقلی کا ہدف دیا جاتا ہے۔ مشکل یہ ہوتی ہے کہ ایجنٹ کو یہ رقم منتقل کرنے کے لیے مطلوبہ صارفین نہیں مل پاتے۔ اس کا حل نکالنے کےلیے انھوں نے ایک طریقہ نکالا ہے۔ وہ جعلی ٹرانزیکشنز کے ذریعے مطلوبہ اہداف پورا کرتے ہیں۔ اس کو یہ بنڈل مارنے کا نام دیتے ہیں۔
جیسا کہ اگر کسی ایجنٹ کو ماہانہ 3 لاکھ روپے منتقلی کا ہدف دیا گیا ہو اور وہ صرف 2 لاکھ روپے منتقل کرسکے،تو وہ ایک لاکھ روپے اپنی جیب سے منتقل کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے کسی جاننے والے کے آئی ڈی کارڈز استعمال کرتا ہے۔ یہ لوگ ڈمی ہوتے ہیں تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ برانچ لیس بینکاری کی گئی ہے۔ کبھی کبھی یہ ایک ہی گلی میں موجود دو مختلف پوائنٹ آف سیلز کے درمیان رقم کی جعلی منتقلی ہوجاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ کمیشن لیتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر ہدف پورا کردیں ۔ بینک کوصرف ہدف پورا ہونے سے غرض ہوتی ہے ،اس لئے جعلسازی پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔

جھوٹ
ایسے ہی ایک پوائنٹ آف سیل ایجنٹ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے کیسے بینظیر انکم سپورٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کے بائیو میٹرک کا غلط استعمال کرکے ان کی رقم نکالی ۔
ایجنٹ کے مطابق جب لوگ اس کے پاس بینظیر انکم سپورٹ اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے آتے تو وہ لوگوں کو جھوٹ بولتا کہ ان کے بائیو میٹرک نشان کام نہیں کر رہے حالانکہ حقیقت میں وہ درست ہوتے ہیں اور یوں وہ لوگوں کے بائیو میٹرک نشانات مشین میں لے کر ان کی بینظیر انکم سپورٹ قسطوں سے حاصل رقم سے خود مزے کرتا۔
پوائنٹ آف سیل ایجنٹ کے خلاف دائر پہلی شکایت پر انہیں 10 ہزار روپے جرمانہ، دوسری شکایت پر 50 ہزار روپے جب کہ تیسری شکایت ملنے پر اُن کے بینک اکاؤنٹ بند کردیئے جاتے ہیں۔
صارفین کی شکایت جب تحقیقات کیلئے آگے جاتی ہیں تو ایجنٹ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ صارفین نے رقم اپنے بائیو میٹرک سے نکالی ہے، اس میں ان کا کوئی کردار نہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایجنٹ کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی جامع پروگرام موجود نہیں، جو سزائیں موجود ہیں وہ ہونے والے نقصان کے مقابلے میں معمولی ہیں۔
کچھ کیسز میں ایجنٹس کی آئی ڈیز بند کردی جاتی ہیں، تاہم یہ سزا لوٹی گئی رقم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اگر پوائنٹ آف سیل آپریٹر ( پی او ایس) ایک شخص کے اکاؤنٹ سے 5000 روپے نکالتا ہے تو 500 افراد کے اکاؤنٹ سے نکالی گئی یہ ہی رقم 2.5 ملین بنتی ہے، جو ایک بڑا منافع ہے۔ پوائنٹ آف سیل آپریٹر ( پی او ایس) بڑی تعداد میں ایسی حرکت کرتے پائے گئے ہیں۔
کراچی کے علاقے لیاری میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرامز میں غبن کی شکایات کی تحقیقات کرنے والے افسر فہد بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمیں ان تمام کارروائیوں کے بارے میں علم ہے، تاہم کم افرادی قوت کے باعث ان کے خلاف ایکشن نہیں لے پاتے۔ اگر ہم یہ شکایات اور فراڈ سے متعلق متعلقہ حکام کو آگاہ کریں گے تو اس میں اصل صارفین کو اپنی جائز رقم لینے میں مزید دقت ہوگئی اور ایسے میں انہیں یہ قسطیں بھی تاخیر سے ملیں گی، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
فہد بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اس تمام تر کارروائی میں ایک مرکزی وجہ خود خواتین بھی ہیں، جو پڑھی لکھی نہیں۔ رقم نکالنے کے دوران کمپیوٹر اسکرین پر نظر آنے والی رقم اور دیگر الفاظ انہیں سمجھ نہیں آتے ہیں، یہ صرف رقم دینے والا دکاندار ہی انہیں سمجھ جا سکتا ہے یا کوئی ایسا پڑھا لکھا جو ان کے ساتھ ہو۔ مگر زیادہ تر کیسز میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔
اسی سلسلے میں سماء ڈیجیٹل کا نمائندہ واقعہ کی حقیقیت جاننے کے لیاری کے علاقے بکرا پیڑی کے قریب پوائنٹ آف سیل ( پی او ایس) آپریٹر بشیر پی سی او سے رابطہ کیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت بینظیر انکم سپورٹ کی رقم تقسیم ہو چکی تھی۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ہمیں بشیر پی سی او سمیت کئی پی او ایس کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں، جس میں جیو آصف کمیونیکیشن، مالک کمیونکیشن، شاہد برادرز وغیرہ شامل ہیں۔ ان لوگوں کے 2 آئی ڈیز بھی بلاک کردیئے گئے ہیں، جو یو بی ایل اومنی اکاؤنٹ اور ایچ بی ایل کونیکٹ سے لنک تھے۔
بینظیر انکم سپورٹ ذرائع کے مطابق لیاری سے ملنے والی ایسی ہی شکایات پر انہوں نے ( بشیر پی سی او ) پوائنٹ آف سیل ( پی او ایس) آپریٹر کا آئی ڈی بلاک کردیا تھا، تاہم کچھ عرصے بعد میں نے دیکھا کہ یہ ہی پوائنٹ آف سیل ( پی او ایس) دوبارہ سے لوگوں کے بینظیر انکم سپورٹ اکاؤنٹ چلا رہا ہے۔ تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ میرے ہی ایک سینیر کی ملی بھگت سے ان کا بلاک کیا گیا آئی ڈی بحال کیا گیا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ فنڈز کیلئے پہلے یو بی ایل اومنی اور بینک الفلاح سمیت دیگر بینکوں کی شراکت داری تھی، تاہم بعد ازاں صرف ملک بھر میں بینکوں سے ہونے والی ترسیل کیلئے ایچ بی ایل کونیکٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔
ڈائریکٹر کے مطابق حبیب بینک سے وابستہ بینظیر انکم سپورٹ اکاؤنٹ سے ملنے والے رقم میں تاخیر اسی وجہ سے ہوئی کیوں کہ جن پوائنٹ آف سیل ( پی او ایس) کے آئی ڈیز شکایات اور فراڈ پر بلاک کردیئے گئے تھے انہیں دوبارہ کھول دیا گیا۔
اس سلسلے میں سما ڈیجیٹل کی جانب سے جب دونوں بینکوں سے معاملہ پر مؤقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایسی کسی بھی شکایت کی تردید کی، جب کہ حبیب بینک نے بارہا کوششوں کے باوجود مؤقف دینے سے گریز کیا