سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا!عمران یعقوب خان

شام کے شہر ادلب میں بچوں کے ایک ہسپتال میں لگی تین وارننگ لائٹس کے بارے میں مریضوں اور ڈاکٹروں کا جاننا سب سے ضروری ہے۔ پیلے رنگ کا بلب روشن ہونے کا مطلب ہے جنگی طیارے قریب آ چکے۔ کسی بھی وقت بمباری ہو سکتی ہے۔ سرخ بلب روشن ہونے کا مطلب ہے علاقے میں بمباری شروع ہو چکی۔ اور نیلے بلب کے روشن ہونے کا مطلب ہے بمباری سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہسپتال لایا جا رہا ہے۔ ادلب میں کوئی کہیں بھی محفوظ نہیں۔
ادلب شام کا وہ بد قسمت شہر ہے جو صدر بشار الاسد کے باغیوں کا آخری مضبوط مرکز ہے اور شامی و روسی فورسز کے نشانے پر ہے، ترکی شام کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے لیکن وہ انہیں فضائی مدد نہیں دے سکتا۔ دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور انسانی حقوق گروپ شام کے نو سالہ تنازع میں اسے سب سے بڑا انسانی بحران قرار دے رہے ہیں۔
بے گھر افراد ترکی، شام کی سرحد پر ہڈیوں کو جما دینے والی سردی میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ وطن کے ہوتے غریب الوطنی ان کا نصیب بن گئی ہے۔ ترکی شامی مہاجرین کی بڑی تعداد کو پناہ دے چکا ہے لیکن اب وہ بھی مزید مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں اور شام کی سرحد کے اندر تیس کلومیٹر کی پٹی میں ان مہاجرین کو بستیاں بنا کر بنیادی سہولتیں دینے کی بات کرتا ہے لیکن بشار الاسد اس منصوبے کو نہیں مانتے۔
بے گھروں کو کوئی آسرا ملتا دکھائی نہیں دیتا تو وہ یونان بارڈر کی طرف نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یونان کے راستے یورپ میں داخل ہو جائیں۔ یونان بارڈر پر حالات ادلب سے بھی زیادہ بھیانک ہیں‘ جہاں یونان کے کوسٹ گارڈز پہلے تو ان غریب الوطن انسانوں کی چھوٹی چھوٹی کشتیوں کو ڈبونے کی کوشش کرتے ہیں‘ لیکن اگر کسی بھی طرح یونان کے سرحدی جزیروں تک پہنچ جائیں تو وہاں انسانیت کی تذلیل کے نئے تماشے ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور ترکی کے ٹی وی چینلز پر چلنے والی ویڈیوز میں یہ مہاجرین یونانی کوسٹ گارڈز کے غیر انسانی سلوک کی دہائی دیتے ہوئے سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ انسانی حقوق کا سبق پڑھانے والے ان سے ذلت بھرا سلوک کر رہے ہیں۔ چند ویڈیوز میں شامی اور افغان مہاجرین صرف زیر جامے پہنے آگ کے الاؤ کے گرد جمع ہو کر جسم کو کچھ گرم رکھنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ ان مہاجرین نے بتایا کہ یونان کے کوسٹ گارڈز نے ان کا سامان، موبائل فونز لینے کے بعد لباس بھی اتروا لئے اور انہیں صرف زیر جاموں میں وہاں سے بھگا دیا۔ افغان خواتین کو پلاسٹک راڈز سے پیٹا گیا۔ ان مہاجرین کا ایک ہی سوال ہے: یورپ انسانی حقوق کے احترام کی بات کرتا ہے، اب انسانی حقوق کہاں ہیں؟ مہاجرین نے کہا کہ یونان کے کوسٹ گارڈز نے ان مہاجر مرد و خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان میں کسی ایک میں بھی رحم یا ہمدردی لمحے کو بھی نہیں جھلکی۔ یہ مہاجرین رات بھر جنگل کی لکڑیاں جلا کر جسم کی حرارت برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور دن میں دوبارہ یونان جانے کی کوشش میں آنسو گیس کے شیلز کا سامنا کرتے ہیں۔
مہاجرین کے ساتھ اس طرح کا غیر انسانی سلوک یورپ میں نیا نہیں۔ شام کا بحران شروع ہونے کے بعد سے یورپ ان مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے‘ اور اس کا اصرار رہا ہے کہ ترکی ان مہاجرین کو سنبھالے لیکن اس کے لیے یورپ ترکی کی مدد کو بھی تیار نہیں۔ یونان بارڈر پر بیٹھے ان مہاجرین کا سوال بالکل جائز ہے کہ انسانی حقوق کے احترام کا دعوے دار یورپ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہا ہے؟
دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی شام کی خانہ جنگی سے اب تک پانچ لاکھ انسان مارے جا چکے ہیں‘ اور دس لاکھ سے زیادہ زخمی ہیں۔ جنگ سے پہلے شام کی جو کل آبادی تھی اس کا نصف بے گھر ہو چکا ہے۔ ادلب میں شدید سردی میں ننھے بچوں کے سردی سے جم کر ہلاک ہو جانے کے واقعات عام ہیں۔ ادلب پر روس کی مدد سے بشار الاسد کی فورسز کے حملے کے بعد پندرہ لاکھ شہری ترک بارڈر کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں۔
یونان کے بارڈر پر کوسٹ گارڈز مہاجرین کی چھوٹی کشتیوں پر فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔ یونان کے سرحدی جزیرے لیسبوس کے مکینوں نے بھی مہاجرین کو روکنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت مہم چلا رکھی ہے۔ مہاجرین کشتیوں سے اترتے ہیں تو مقامی لوگ ان پر جھپٹ پڑتے ہیں اور گھونسوں مکوں سے ان کی تواضع کی جاتی ہے۔ یونان کے دائیں بازو کے انتہا پسند سیاسی گروپ اس مسئلے کو اپنی سیاسی دکان داری چمکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ لیسبوس میں بنا مہاجر کیمپ ان سیاسی گروپوں کے لیے اہم ہے۔ اس کیمپ میں تین ہزار مہاجرین کی گنجائش ہے اور اس وقت یہاں انیس ہزار سے زیادہ مہاجر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی آبادی اس کیمپ کو ختم کرانا چاہتی ہے تاکہ یہاں سیاحت کا آغاز ہو سکے۔
ترکی بھی اپنی سرحد پر شام کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ان مہاجرین کا استعمال کر رہا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے شام کے آپریشن سے پہلے یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ترکی کے آپریشن کو غیر ملکی مداخلت یا جارحیت کہا گیا تو وہ ترکی کی سرحدیں کھول دیں گے اور 36 لاکھ مہاجرین کو یورپ کی طرف بھجوا دیں گے۔
اس ہفتے ترکی نے صدر طیب اردوان کے ان الفاظ پر عمل کر دکھایا اور مہاجرین کو یونان کی سرحد کی طرف دھکیلا گیا۔ ترک صدر کو مہاجرین کے بوجھ کی وجہ سے مقامی انتخابات میں دھچکا لگا تھا۔ اب وہ شام کی سرحد کے اندر ایک سیف زون بنانا چاہتے ہیں‘ جس سے ترکی کی کنسٹرکشن کی صنعت کو فروغ ملے گا، مہاجرین سے نجات ملے گی اور سیاست مضبوط ہو جائے گی۔
شام میں جنگ تیز ہونے اور مہاجرین کا سیلاب یونان بارڈر پر پہنچنے سے حالات کی سنگینی مزید بڑھے گی۔ یونان نے یورپی یونین کے سیاسی پناہ کے قوانین معطل کر رکھے ہیں اور مہاجرین کو آمد کے ساتھ ہی واپس بھجوایا جا رہا ہے۔ یورپی یونین یونان کے اس رویے پر خوش ہے کہ مہاجرین کو یورپ میں داخلے سے روک کر وہ مہاجرین کا بوجھ یورپ پر پڑنے سے روک رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ یورپی اقدار ہیں جن پر یورپ نازاں رہتا ہے؟ یہی وہ یورپی یونین ہے جس کے باسی جانوروں کے حقوق کے لیے بھی بے حد حساس مانے جاتے تھے۔ کیا یہ وہی یورپی یونین ہے جس نے جانوروں کے تحفظ کے لیے ادارے بنا رکھے ہیں ۔ اگر یورپ اتنا ہی حساس ہے تو شام کے مہاجرین کی چیخ و پکار اور ان کے مصائب کی داستانوں پر اس کا کیوں نہیں پسیج رہا ہے؟
یونان کے بارڈر پر جو مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ یورپ کی کھوکھلی انسانی اقدار کا پول کھول رہے ہیں، دنیا کو نظر آ رہا ہے کہ یورپ انسانی حقوق کے احترام کا ڈھنڈورا صرف اپنے مفاد میں پیٹتا ہے۔ یورپ کی غیر یورپی اقوام سے نفرت اور بیزاری سب کے سامنے ہے اور یورپی سیاست دانوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اگر سیاست کے سینے میں دل ہوتا تو لاکھوں مہاجرین آج دنیا بھر میں یوں در بدر نہ ہو رہے ہوتے۔ یا تو ان مسائل کو حل کر دیا جاتا‘ جن کی وجہ سے وہ بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے‘ یا پھر ان کے تحفظ کا اور انہیں پناہ دینے کا کوئی مناسب بندوبست کیا جاتا