لیجنڈفنکارامان اللہ..کامران گورائیہ

لیجنڈری مزاحیہ فنکار امان اللہ کاانتقال درحقیقت قہقہوں اورمسکراہٹوں کی موت تھی۔ امان اللہ نے اپنے کم و بیش 34 سالہ فنی سفر کے دوران صرف سٹیج ڈراموں کے ذریعے برصغیر پاک و ہند میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔ امان اللہ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے، برائے نام تعلیم حاصل کرنے کے بعد بسوں میں گولیوں اور ٹافیوں سمیت چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے لگے۔ ایک بار ماضی کے معروف ٹی وی آرٹسٹ غیور اختر بس میں سفر کر رہے تھے کہ انہیں امان اللہ کو معمولی چیزوں کو موثر انداز میں بیچنے کی صلاحیت نے متاثر کیا۔ غیور اختر نے محسوس کیا کہ امان اللہ سٹیج کی دنیا کے لئے انتہائی مناسب ثابت ہوسکتا ہے۔ غیور اختر نے امان اللہ کو لاہور آنے اور سٹیج ڈراموں میں کام کرنے کی پیشکش کر دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ لاہور آنے کے بعد امان اللہ نے ابتدا میں غیور اختر کی سفارش پر سٹیج ڈراموں میں چھوٹے موٹے کردار کیے لیکن ان کے کیرئیر کو بام عروج تک پہنچانے میں تہلکہ خیز سٹیج ڈرامہ سکسر کا بہت بڑا ہاتھ رہا ۔ اس ڈرامہ میں اپنے دور کے مقبول ترین فنکار فردوس جمال، حامد رانا،شیبا حسن اور شیبا بٹ نے بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے تھے لیکن امان اللہ کی بے ساختہ اور برجستہ جگتوں نے سٹیج ڈرامہ سکسر کو زبردست کامیابی سے ہمکنار کروا یاتھا۔
یوں تو تقسیم ہند سے پہلے اور بعد میں بھی تھیٹر کو عوام میں مقبولیت حاصل تھی لیکن سٹیج ڈراموں میں جگتیں کر کے شائقین کو ہنسانے کی روایت امان اللہ ہی نے متعارف کروائی تھی جس پر انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور برسہا برس تک امان اللہ ایک دن کا ناغہ کیے بغیر مختلف سٹیج ڈراموں میں کام کرتے رہے۔ کچھ سالوں کے بعد امان اللہ کے سٹیج ڈراموں کی ویڈیوز بھارت، کینیڈا اور برطانیہ بھی پہنچا دی گئیں بالخصوص امان اللہ کے سٹیج ڈرامے کینیڈا، برطانیہ اور بھارت میں بسنے والے پنجابیوں اور سکھوں میں بے پناہ مقبول ہوئے جس کے بعد انہیں یورپ، امریکہ اور بھارت میں خصوصی طور پر سٹیج ڈرامے اور ٹی وی شوز میں شرکت کے لئے بلایا گیا ، انہوں نے اپنی بے ساختہ گفتگو اور جگتوں سے اپنے پر ستاروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کر لیا۔ جن دنوں امان اللہ لاہور کے سٹیج ڈراموں میں کام کیا کرتے تھے ان دنوں کراچی کا تھیٹر بھی بے پناہ مقبول تھا جہاں پر شائقین جوق در جوق سٹیج ڈرامے دیکھنے جایا کرتے تھے۔ ان دنوں قاضی واجد، سلیم ناصر، لہری، کمال احمد رضوی، انور مقصود، بشری انصاری، معین اختر اور عمر شریف جیسے اعلی پائے کے شائستہ مزاج فنکار کام کیا کرتے تھے لیکن ان تمام فنکاروں نے بھی امان اللہ کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ امان اللہ نے جہاں ہزاروں سٹیج ڈراموں کو اپنی بے مثل اداکاری سے سپرہٹ ہونے میں اہم کردار ادا کیا، وہیں ون مین شو میں بھی ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ ویسے تو انہوں نے اپنے فنی سفر میں اداکار قوی خان، عرفان کھوسٹ، اورنگزیب لغاری، حامد رانا، شیبا حسن، خالد عباس ڈار، البیلا، مستانہ، ببوبرال، عابد خاں، طارق جاوید اور سہیل احمد سمیت دیگر فنکاروںکے ساتھ بہت کام کیا اور اپنی الگ پہچان بنائی ۔ موجودہ دور کے معروف کامیڈین افتخار ٹھاکر، نسیم وکی، ناصر چنیوٹی، ہنی البیلا، امانت چن اور سخاوت ناز انہیں اپنا روحانی استاد مانتے تھے۔ مرحوم منورظریف کے بعد امان اللہ واحد ایسے کامیڈین تھے جن کے برجستہ جملے سن کر لوگ لوٹ پوٹ ہوجایا کرتے تھے۔
امان اللہ نے سٹیج پر ڈراموں کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور فلم کے شعبوں میں بہترین کام کیا۔ امریکہ، کینیڈا، یورپ، ہندوستان، مڈل ایسٹ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں انہوں نے اپنی عمدہ پرفارمنس سے جہاں خوب داد سمیٹی،وہیں پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ وہ دنیا بھر میں پاکستانی کمرشل تھیٹر کو ایک الگ پہچان دلوانے فنکار تھے۔ ان کی کامیابی کے چرچے پاکستان میں تو تھے ہی لیکن پڑوسی ملک بھارت میں جب کامیڈی پروگراموں کا سلسلہ شروع ہوا تو اس میں حصہ لینے والے کامیڈینز کی اکثریت امان اللہ کے جملے سنا کر ہی کامیابی حاصل کیا کرتی تھی، ان میں کپل شرما، سدیش لہری اور بھارتی کا نام قابل ذکر ہے۔ بھارتی پنجاب میں بھی امان اللہ کے ڈرامے بڑے شوق سے دیکھے جاتے تھے۔معین اختر اور عمر شریف امان اللہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ کچھ عرصہ کے لئے امان اللہ کے مقابلے میں سٹیج ڈرامے کرنے کےلئے لاہور آ گئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب لاہور میں الحمرا جیسے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ہال موجود نہیں تھے بلکہ لاہور آرٹس کونسل کے زیر انتظام اوپن ایئر باغ جناح اور مال روڈ پر سٹیج ڈرامے کیے جاتے تھے۔تھیٹرز کو انڈسٹری جیسی اہمیت دلوانے میں امان اللہ کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ امان اللہ کے ساتھ کام کرنے کے بعد درجنوں فنکاروں نے مقبولیت حاصل کی۔ سہیل احمد، مستانہ، ببوبرال، امانت چن، سردار کمال، طارق ٹیڈی، ناصر چینوٹی، افتخار ٹھاکر اور نسیم وکی جیسے آج کے نامور فنکار امان اللہ کو کاپی کر کے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔
امان اللہ ایک ایسے خوش مزاج فنکار تھے جو اپنے جونیئر فنکاروں کو جگتیں کرنا سکھاتے تھے۔ انہوں نے کبھی جونیئر فنکار کو اپنے آپ پر جگتیں کرنے سے نہیں روکا بلکہ وہ اچھی جگتوں پر نئے آنے والے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ امان اللہ فلموں میں سلطان راہی، منور ظریف، ننھا، علی اعجاز اور البیلا جیسے عظیم فنکاروں سے متاثر تھے جبکہ دوسری جانب پاکستان سمیت بھارت میں بھی مقبول ترین عمر شریف بھی امان اللہ کے پرستاروں میں شامل تھے۔ پہلی مرتبہ امان اللہ، عمر شریف کے ہمراہ بھارت گئے جہاں پر انہوں نے ایک ٹی وی چینل کے مزاحیہ ریلئٹی شو میں بطور جیوری ممبر فرائص انجام دیئے تھے۔ بھارتی فنکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی امان اللہ کے انداز مزاح کی دیوانی تھی اسی لئے تمام بھارتی فنکاروں نے امان اللہ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا جن میں سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو، چنکی پانڈے، رضا مراد، کپل شرما اور جونی لیور شامل ہیں۔ ان تمام فنکاروں نے امان اللہ کے انتقال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں قہقہوں کی موت ہوگئی۔ قبل از مرگ امان اللہ نجی ٹی وی کے مقبول پروگرام خبرناک کا حصہ بھی رہے۔ انہوں نے اپنے طویل ترین کیرئیر میں سٹیج ڈراموں میں کام کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی بنایا ۔ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ سہیل احمد نے جو اب خود بھی ایک لیجنڈ ہیں امان اللہ کے انتقال پر بالکل ایسے ہی اظہار افسوس کیا جیسے وہ ان کے بڑے بھائی تھے۔ سہیل احمد کہتے ہیں کہ امان اللہ ایسے فنکار تھے جو اپنے دکھوں اور پریشانیوں کو بھلا کر مداحوں میں خوشیاں بانٹنے کا فریضہ انجام دیا کرتے تھے اور ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ امان اللہ کے متعلق ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ وہ سٹیج ڈراموں میں ثانوی نوعیت کے کردار کرنے والے ایسے ان گنت فن کاروں کی بھرپور مالی امداد کر دیا کرتے تھے جنہیں ڈراموں میں کام کرنے کی اجرت نہیں ملتی تھی لیکن خود امان اللہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کسمپرسی کا شکار رہے۔ امان اللہ آج منوں مٹی تلے دفن ہیں لیکن ان کا فن رہتی دنیا تک زندہ رہے گا جو کہ ایک عالمی اور پاکستان کےلئے ثقافتی ورثہ کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔