یہ انتباہ اور درس عبرت ہے!منیر احمد خلیلی

لبرل اور سیکولر لابی کی پست فکری دیکھیے کہ عین اس عالمی مصیبت کے وقت بھی وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارات و صفات اور شعائر اسلام کو تمسخر کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے۔ان کی کم فہمی انھیں اللہ تعالیٰ کے نظام کی حقیقت اور اس کی حکمتوں اور قدرتوں کو سمجھنے سے قاصر بنا دیتی ہے۔
وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات میں تکوینی اور شرعی، دو نظام رائج ہیں۔ یعنی ایک فطرت کا نظام ہے۔ کائنات اس نظام میں جکڑی ہوئی ہے۔ سورج ،چاند، سارے اجرام فلکی، ہوائیں، پہاڑ، نباتات و حیوانات، جمادات اس نظام فطرت کے پابند ہیں۔ وہ اس سے بال برابر بھی انحراف نہیں کر سکتے۔ انسانی جسم کے اعضا و جوارح پر بھی فطرت کا یہی نظام لاگو ہے۔ آنکھ دیکھنے، ناک سونگھنے، کان سننے، زبان بولنے اور دماغ سوچنے اور دل محسوس کرنے کے لیے بنا ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان اور فلسفی یا دانشور یا جابر حکمران اعضائے بدن کے اس طبعی وظیفے کو بدل نہیں سکتا۔
چھوٹی موٹی بیماریاں اکثر انسان کی اپنی بے احتیاطیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ بڑی وبائیں بھی اس وقت آتی ہیں جب انسانوں کی ایک بڑی تعداد فطرت کے نظام سے بغاوت کرتی اور طبعی اصولوں کو توڑتی ہے۔ کبھی بڑے پیمانے پر آفات و مصائب اور امراض اللہ کی آزمائش بن کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیماریوں کے علاج کا بھی فطری طریقہ مقرر کیا ہے اور ان کے علاج بھی ہواؤں، شعاعوں، جڑی بوٹیوں اور فطرت کے بے شمار عناصر کے اندر رکھ دیے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: لِكُلِّ دَاء دَوَأ یعنی سب بیماریوں کا علاج پیدا کیا گیا ہے۔ اس امکان کے تحت کہ انسان Nature کو اپنا خدا نہ بنا لے، ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہترین دوا دارو اور عمدہ علاج اور طبعی غذاؤں اور خوشگوار آب و ہوا کے باوجود بھی شفا نہیں دیتا۔ بہت سے موقعوں پر دوا بالکل بے کار ثابت ہوتی ہے اور دعا ہی کارگر بنتی ہے۔
اسی طبعی نظام کے تحت اللہ کے پیغمبر بھی بیمار ہوتے اور انتقال کرتے رہے۔ بعضوں کو ان کی قوموں نے قتل تک کیا، زندہ زمین میں گاڑا، اذیتیں دیں۔ ان پر جو ہتھیار استعمال ہوئے وہ طبعی قانون کے مطابق انھیں کاٹنے اور ضرب لگانے سے اس لیے انکار نہیں کرتے تھے کہ ان کا استعمال اللہ کے نبیوں پر ہو رہا ہے۔ رب کے کعبہ کے اندر رکھے نذرانے چوری ہو جاتے تھے۔ ایک کسی قدر غیر معروف ضعیف روایت کے مطابق قدیم زمانہ جاہلیت میں ایک مرد عورت کعبہ کے اندر بد کاری کے مرتکب بھی ہوئے تھے جن کو وہیں زم زم کے قریب پتھر بنا دیا گیا تھا۔ توحید خالص کے مرکز مکہ والوں نے کعبہ کے اندر 360 بت سجا کر اسے شرک کا گڑھ بنا دیا تھا۔ مکہ شہر میں اور حرم پاک کے سائے میں اللہ کے سب سے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھی بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے۔ اللہ یہ سب دیکھ رہا تھا لیکن اس نے کچھ کی سزا بارہ چودہ سال کے اندر لکھی تھی اور کچھ کی قیامت کے روز پر رکھی تھی۔
یہ ساری باتیں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ شرعی امور یعنی دنیا میں توحید، راستی، عدل اور حکمت اللہ تعالیٰ کسی مافوق الطبعی قوت سے نہیں بلکہ اپنے بندوں کے ذریعے قائم کرانا چاہتا ہے۔ بندے اگر اس سے عاجز آ جائیں یا انکاری ہو جائیں تو پھر وہ براہ راست ویسی قدرت و قوت دکھاتا ہے جیسی اس نے ابرہہ کے ہاتھیوں والے لشکر سے اپنے کعبہ کو مسمار ہونے سے بچانے کے لیے ابابیلیں بھیج کر دکھائی تھی یا جیسے نوح، ہود، صالح، شعیب، لوط علیہم السلام کی قوموں پر مختلف طرح کے عذاب مسلط کر کے ظاہر کی تھی۔
عقلیت پسند اور ملحد فکر کچھ لوگ موجودہ کرونا وائرس کو بھی اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر سمجھ کر عبرت پکڑنے کے بجائے مذاق اڑا رہے ہیں کہ دیکھیں اللہ کا گھر کعبہ کرونا کے خوف سے بند کر دیا گیا۔ جو خدا نعوذ باللہ اپنے گھر اور اس کے اندر عبادت گزاروں کو کرونا سے نہیں بچا سکتا اس کی قدرت و کارفرمائی پر کون بھروسا کرے۔ ان بد بختوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح انسانوں نے فطرت کے نظام اور خدا کے دین سے بغاوت پر اپنی زندگیاں استوار کر کے اپنے لیے کرونا جیسی وبا کو خود دعوت دی، اللہ چاہتا ہے کہ اپنی بے پناہ صنعتی اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر ناز کرنے والا یہ انسان اس وبا سے اپنا بچاؤ بھی خود کر کے دکھائے۔ جب تک اللہ کو اس وبا کا قابو میں آنا منظور نہیں اس وقت تک اپنے اسباب لڑائیں اور اپنی تدبیریں کر کے دیکھیں۔
کعبہ کی حفاظت، اس میں حفظانِ صحت اور وبا کے تدارک و سدباب کے امور انسانوں کے سپرد ہیں۔ اللہ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ کعبہ میں عبادت کرنے یا پناہ لینے والے لوگ قدرتی آفتوں سے بچ جائیں گے۔ کعبہ کی زیارت کرنے کے لیے جانے والے وہاں بیمار بھی ہوتے ہیں اور ان کا انتقال بھی ہو جاتا ہے۔
اللہ کی قدرت و قوت کا تمسخر اڑانے والے پہلے خود اپنی فکر کریں کہ کرونا سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ خدا کو بے بس سمجھنے والے اپنا بس چلا کر اس وبا کو ٹال کر دکھائیں۔ یہ ہی بتا دیں کہ چین سے پھوٹنے والا وائرس کئی سمندر پار کر کے یورپ اور پھر بحر اوقیانوس کو عبور کرتا ہوا امریکا جیسے صحت کی شاندار پالیسیاں رکھنے والے ملکوں میں کیسے پہنچ گیا؟ ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کیوں پھولے ہوئے ہیں؟ ان کے بڑے بڑے مال، ہوٹل، تفریح گاہیں، مارکیٹیں، بازار اور تعلیمی ادارے کیوں بند ہو گئے؟ ان کا نظام زندگی کیوں مفلوج ہوا جا رہا ہے؟ ان کے معمولات حیات کیوں درہم برہم ہو رہے ہیں؟ ان کے عشرت کدے اور عیاشی کے اڈے کیوں اجڑ رہے ہیں؟ نائٹ کلب، سینما گھر کیوں ویران ہو رہے ہیں؟ عریاں بدنی کے مرکز ساحلوں پر کیوں الو بول رہے ہیں؟ ان کی معیشت کیوں بیٹھی جا رہی ہے؟
سیدھی سی بات ہے کہ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب انسان کی سائنسی اور علمی وسعتوں کی کارفرمائی کا پول کھلتا۔اس کی سائنسی تحقیقات و انکشافات جواب دے جاتے ہیں اور وہ بے بسی کا نمونہ بن جاتے ہیں۔
اللہ نے اپنا کعبہ جن کے سپرد کیا ہے وہ بھی اللہ کے ہاں جوابدہ ہوں گے اور جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے سائنس کے زور پر کائنات کو مسخر کر لیا ہے سب کا حساب ہو رہا ہے۔ سیکولر اور لبرل لابی کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وقت تمسخر کا نہیں بلکہ غور و تدبر اور عبرت کا ہے۔