اسپین میں پاکستانی اور خدمت خلق کا جذبہ،ایک مضبوط ادارے کی ضرورت۔۔ڈاکٹر قمرفاروق

ہم سب حضرت محمدمصطفیﷺ کی وجہ سے آپس میں ایک رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔آپﷺ نے غرباء،یتیموں،بیوہ اورمستحق افراد کی بلا امتیاز کی کی اور امت کو خدمت خلق کی تاکید کی ۔آپ ﷺ نے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق واضح کئے ۔آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ بندے کو ہر زندہ چیز سے ہمدردی کا اجر ملے گا۔ ہم سب حضرت محمد ﷺکی محبت کے دعویدار ہیں۔ ہم اس ملک میں رہ رہے ہیں کہ جہاں سب جلد یا بدیر، خوشحال ہوجاتے ہیں۔ ہم ہر نعمت پر شکر ادا کریں تو کم ہے۔اللہ رب العزت کی نعمتوں کا شکر بجا لانے اور حضرت محمدمصطفی ﷺ کے احکامات کی تکمیل کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے دئیے ہوئے سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں ۔ضرورت مند کوئی بھی، کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ اللہ نہ کرے کہ وہ کسی کو ضرورت مند بنا دے لیکن جب انسان ضرورت مند بن جاتا ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ اس وقت اس کی مدد کرنے والے شخص یا تنظیم کی کیا اہمیت اور قدر ہے ۔جب ہم ضرورت مندوں کی مدد کریں گے تو ہمارا یہ کام ہماری کمیونٹی کی پہچان بن جائے گا ۔
دنیا بھر میں تارکین وطن پاکستانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ جن میں اہل ثروت بھی ہیں، روزانہ گزر بسر کرنے والے بھی ہیں اور وہ بھی ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لئے بھی دوسروں کی جانب دیکھتے ہیں ، کام مل گیا تو روٹی میسر آگئی نہیں ملا تو خاموشی سے رات گزار لی۔ایسی صورتحال کے پیش نظر برطانیہ اور امریکہ میں دو ایسی فلاحی تنظیمیں موجود ہیں جو مجبور لاچار اور کمزوروں کی مدد کرتیں ہیں بلکہ وہ اپنے ہم وطن تارکین کے علاوہ پاکستان میں بھی جب کوئی آفت آتی ہے تو وہاں پر بھی اپنی خدمات سر انجام دیتی ہیں۔ صرف یہی دو تنظیمیں نہیں ہیں اور بھی بہت فلاحی تنظیمیں ہیں جو اپنی بساط اور اوقات کے مطابق خدمت خلق کر رہی ہیں ۔ برطانیہ میں مسلم ہینڈ، امریکہ میں اکنا ریلیف اور پاکستان میں الخدمت فاونڈیشن کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں اور نا ہی کوئی ایسا تارکین وطن پاکستانی ہوگا جو ان کے نام سے اور کام سے متعارف نہ ہو۔
اکنا ریلیف
اکنا ریلیف یو ایس اے امریکہ بھر میں فلاحی پروگرام چلاتی ہے جب کہ وہ امریکہ میں قائم دوسری فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستان میں بھی فلاحی کاموں میں حصہ لیتی ہے ۔ اکنا ریلیف کے تحت ہر ماہ ہزاروں لوگوں میں بلا امتیاز کھانا تقسیم کیا جاتا ہے ۔ جن لوگوں کی مدد کی جاتی ہے ، وہ ایک پیغام اور مسلم کمیونٹی کے بارے اپنے دل میں ایک تاثر لے کر گھر جاتے ہیں ۔یہ خدمت خلق بھی ہے ،اللہ کی راہ میں عبادت بھی ہے اور اس نیک کام کے ہماری آنیوالی نسلوں پر اثرات کرتب ہونگے ۔اکنا ریلیف ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جس پر اکٹھے ہو کر سب اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
مسلم ہینڈ
ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم جس کے بانی سید لخت حسنین ہیں، انہوں نے اس این جی او کی بنیاد نوٹنگھم میں 1993ء میں رکھی، اس کی ذیلی شاخیں 50ممالک میں قائم ہو چکی ہیں، چیچنیا، بوسنیا، کسووا، عراق، افغانستان میں جنگی حالات میں، زلزلوں، سیلاب، میں انسانیت کی خدمت اس کا شعار ہے، مختلف علاقوں میں سکولز و کالجز کا قیام جہاں مستحقین کے لیے مفت تعلیم کی سہولت، سیف واٹر سکیم، قربانی پراجیکٹ، بحالی معذوراں، یتیموں کی معاونت، نوجوانوں کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر ز، میڈیکل سنٹرز وغیرہ اس تنظیم کی سماجی خدمات میں شامل ہے،
دنیا بھر میں اور عالم اسلام میں بہت جگہوں پر مسلم ہینڈ کی شاخیں ہیں۔ہینڈ کا لفظ مسلم کے سا تھ بہت بامعنی ہو گیا ہے۔ اردو میں یہ لفظ لائیں تو ایک نئی دنیا سامنے آتی ہے۔ ہاتھ ملانا۔ ہاتھ بٹانا۔ ہاتھ بڑھانا۔ اور ہاتھ دینا کہ یہ ساتھ دینے سے بھی آگے کی بات ہے۔ ہاتھ مضبوط کرنا تو بہت ہمہ گیر ہے۔ اب آپ مسلم ہینڈ پر غور کریں اور مسلمانوں کے لئے محبت اور حمایت پر دھیان دیں۔
الخدمت فاونڈیشن
الخدمت فاونڈیشن وطن عزیز کی سب سے بڑی غیر حکومتی فلاحی تنظیم ہے۔ یوں تو الخدمت فاونڈیشن نے قیام پاکستان کے وقت امداد مہاجرین کے کٹھن کام سے اپنے کار خیر کا آغاز کر دیا تھا مگر غیر حکومتی فلاحی تنظیم کے طور پر اسے سن نوے میں رجسٹر کیا گیا۔ اس تنظیم کے پیش نظر کار ہائے خیر میں سب سے نمایاں وقت آفات میں رضاکارانہ سرگرمیاں ہیں۔
اسپین میں اس وقت کم وبیش ایک لاکھ کے قریب پاکستانی مقیم ہیں جن میں ہرطرح کی مالی حیثیت کے لوگ موجود ہیں ، جن میں امیر کبیر اور غریب سب موجود ہیں، گزشتہ بارہ سالوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ اہل اسپین نے پاکستان میں کوئی بھی آفت آجائے حکومت کی جانب سے کوئی اپیل کی جائے نے آگے بڑھ کر اپنا حصہ ڈالا ہے۔لیکن بدقسمتی سے کوئی تنظیم، کوئی فلاحی ادارہ یا فاونڈیشن کی بنیاد نہیں رکھ سکے ، انفرادی طور پر یا کسی گروپ کی تشکیل سے ہم نے محنت کی ہے اور اپنا حصہ ڈالا ہے۔
آج جب دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے بحران کا شکار ہے اور انسان ناصرف بیماری اور خوف کی وجہ سے پریشان ہیں بلکہ بے روزگاری اور بھوک کی وجہ سے بھی غمگین ہیں۔ اسپین اس وقت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے یہاں کرونا وائرس کا وار سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ لوگ گھروں میں محصور ہیں، وائرس کا خوف الگ اور بھوک کا خوف الگ، اسپین یہاں پر پہلے ہی معاشی بحران جاری تھا مزید گہرا ہوگیا ہے۔ اس دکھ اور مصیبت کی گھڑی میں پاکستانی اہل ثروت آگے آئے ہیں اور انفرادی طور پر اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے ہم وطنوں کی خدمت کررہے ہیں۔ مجبور اور کمزور افراد کے گھروں تک راشن مہیا کیا جارہا ہے۔ ایسی صورتحال میں کچھ لالچی افراد بھی سامنے آئے ہیں جو ہر امداد دینے والے کے سامنے آجاتے ہیں اور سبھی سے امداد لے رہے ہیں ایسا کرنے سے دوسروے کمزور افراد کی حق تلفی ہو رہی ہے۔
اسپین کے پاکستانیوں نے بہت ساری ویلفیئر کی ایسوسی ایشنز اور فیڈریشنز بنائی ہوئی ہیں لیکن وہ خدمت خلق کے اعتبار سے مربوط نظام نہیں رکھتیں ، اگر کوئی ایک بھی اکنا ریلیف، مسلم ہینڈ اور الخدمت کے انداز میں کام کرتی تو آج ہمیں انفرادی طور پر کام کرنے کی بجائے اس تنظیم کے ہاتھ مضبوط کرنے کی زیادہ ضرورت تھی۔ ہم تارکین وطن اس بحران اور دکھ کی گھڑی سے نکل جائیں گے۔ ان شاء اللہ لیکن ہمیں سوچنا چاہیئے کہ ہم کسی ایسے ادارے کی بنیاد رکھیں جو تمام سال کمزوروں اور دکھی لوگوں کی خدمت کرتا رہے۔
ایک ایسا ادارہ جس کا مشاورتی بورڈ ہو اور تمام اسپین میں مقیم پاکستانیوں کی خدمت پر یقین رکھتا ہو،جس طرح آج ہم انفرادی طور پر کام کر رہے ہیں یہی کام ہم اس ادارے کے ذریعے کرتے تو ہمیں اس طرح کے لالچی افراد کا سامنا نا کرنا پڑتا ۔ بلکہ یہ تمام اہل ثروت اس ادارے میں اپنی خدمات پیش کرتے وہاں پر نام لکھواتے کہ ہم اتنے خاندانوں کا خرچ اٹھا رہے ہیں ۔ پھر وہ ادارہ مجبور لوگوں کی خود مدد کرتا کسی کو بھی اس طرح گھر گھر جانے کی ضرورت پیش نا آتی ۔
ابھی بھی وقت ہے اور اس پریشانی کے عالم میں گری ہوئی قوم کے لئے کسی مضبوط ادارے کی بنیاد رکھیں تاکہ آنے والی نسل آپ لوگوں کو کسی ایک کام سے ہی اچھا گردانے۔