مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی طویل العمری کا راز کیا ہے؟

سائنسدان اور حیاتیات کے علوم کے ماہرین عرصے سے اس بات پر تحقیق کرتے رہے ہیں کہ اس حقیقت کے پیچھے کیا راز ہے کہ چاہے انسان ہوں یا دودھ پلانے والے جنگلی جانور، ان میں مادہ اقسام کی عمر زیادہ طویل پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطالعے کے مطابق، پوری دنیا میں رنگ و رنسل کے امتیاز سے بالاتر خواتین کی اوسط عمر مرد حضرات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

انھوں نے اپنی تحقیق کے دوران اس بات کا تعین کیا ہے کہ اوسط عمر کا تعلق جنس کے اعتبار سے حیاتیاتی عوامل میں مضمر ہو سکتا ہے۔ انھوں نے ریسرچ کے دوران پتا لگایا کہ انسانوں میں عورتوں کی عمر مردوں کے مقابلے میں لگ بھگ آٹھ فیصد زیادہ ہے۔

سائنسدانوں نے اس سلسلے میں اپنی تحقیق کا دائرہ جنگلی جانوروں تک بڑھا دیا ہے اور ان کے خیال میں بعض جنگلی جانوروں کے مطالعے کی روشنی میں انسانوں کی طویل العمری کے معاملے میں اس بات سے پردہ اٹھ سکتا ہے کہ آخر کیا راز ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ طویل عمر پاتی ہیں۔ ان کو امید ہے کے اس سلسلے میں ماحولیاتی اثرات کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی عوامل کے عمل دخل کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

وہ اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ گزشتہ 200 برسوں میں انسانوں کی اوسط عمر میں دوگنا سے زائد اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ بہتر طرز زندگی اور طبی شعبے کی ترقی ہے۔ لیکن، یہ دیکھا گیا ہے کہ عورتیں بحرحال مردوں کے مقابلے میں پھر بھی زیادہ عمر پاتی ہیں، جس سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ حیاتیاتی خد و خال کا اس میں اہم کردار ہے۔

بیماریوں پر کنٹرول کے امریکی مرکز کے مطابق، ایک عام امریکی 76برس تک کی عمر پاتا ہے، جبکہ امریکہ میں عورتوں کی اوسط عمر 81 سال تک پائی جاتی ہے۔

اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بڑی عمر میں عورتیں یہ توقع کر سکتی ہیں کہ وہ مردوں کے مقابلے میں عموماً زیادہ صحت مند زندگی گزار سکیں گی۔ ماہرین کے مطابق، اس کے پیچھے حیاتیاتی اور سماجی دونوں ہی مضمرات کارفرما ہیں۔

مردوں کی عمر جوں جوں بڑھتی ہے ان کے ہامونز میں تغیر و تبدل دیکھنے میں آتا ہے، جو ان کے مدافعاتی نظام میں کمی اور دل کی بیماریوں کےخدشات سے جڑا ہوتا ہے۔

ماہرین اس جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اس کا تعلق تمباکو نوشی جیسی نقصان دہ عادت، شراب نوشی اور غیر صحت مند خوراک سے بھی بنتا ہے۔

ایک دلچسپ بات جس کی جانب وہ اشارہ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ کسی بھی بیماری کی تشخیص کی صورت میں، عورتوں کے مقابلے میں مرد حضرات ڈاکٹروں کے مشورے پر پوری طرح عمل نہیں کرتے۔ اعداد و شمار سے یہ بات بھی سامنے ائی ہے کہ مرد اکثر و بیشتر ایسے خطرات میں کود پڑتے ہیں جن میں جان جانے کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ عورتوں کا رویہ احتیاط پر مبنی ہوتا ہے۔

سائنسدانوں اور حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک جو تحقیق ہوئی ہے اس کے باوجود بہت سی کڑیاں ابھی ملانی باقی ہیں اور جنس کی بنیاد پر عمر کی طوالت کے پیچھے کارفرما قدرتی عوامل اور ارتقائی پہلووں پر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔