یورپ جانے کے خواہاں پناہ گزین 26 ویں روز بھی یونانی سرحد پر موجود

ہزاروں پناہ گزین شدید مزاحمت کے باوجود ایدرنے بارڈر لائن پر یونان کی جانب ان کے لیے دروازے کھلنے کے منتظر ہیں۔ عارضی طور پر خیموں میں مقیم مہاجرین میں سب سے زیادہ بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں
یورپ جانے کی امید میں یونان کے سفر پرنکلنے والے پناہ گزین 26 ویں روز بھی یونانی سرحد پر موجود ہیں۔ہزاروں پناہ گزین شدید مزاحمت کے باوجود ایدرنے بارڈر لائن پر یونان کی جانب ان کے لیے دروازے کھلنے کے منتظر ہیں۔عارضی طور پر خیموں میں مقیم مہاجرین میں سب سے زیادہ بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔بچے جو بچپن گزارنے ہی سے محروم ہیں ، ہر طرح کے حقوق سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ تقریبا ایک ماہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ بچے گیس بموں سے دم گھٹنے ، پانی اور خوراک سے محروم خیموں میں سردی اور بارش کے موسم اپنی زندگی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پناہ گزین کبھی جنڈرمیری اور کبھی پولیس اہلکاروں کے ساتھ اپنا وقر گزارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ایدرنے گورنر کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ ، آفاد ، ہلال احمر اور غیر سرکاری تنظیمیں پناہ گزینوں کی خوراک اور بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں ہر ممکنہ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور بچوں کو وقتا فوقتا چاکلیٹ اور ٹافیاں وغیر بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔پناہ گزین معصوم بچے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ سرحد پر ان مشکلات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔